LIVE
Loading Breaking News...

کراچی کے این آئی سی ایچ میں نرسری وارڈ کے اندر ویلڈنگ کا کام

News Image
کراچی کے نجی اسپتال کے نرسری وارڈ میں شیرخوار بچوں کی موجودگی کے دوران ویلڈنگ کا کام کیے جانے کی ویڈیو سامنے آگئی ہے۔ اس خطرناک عمل سے اسپتال کی انتظامیہ کی سنگین غفلت کا پول کھل گیا ہے جو نوول بورن بچوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔
کراچی کے معروف سرکاری ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چلڈ ہیلتھ (این آئی سی ایچ) کی نرسری کے اندر انتہائی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ عمل کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس نے ہر طرف ہلچل مچا دی ہے۔ اتوار کے روز سامنے آنے والی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسپتال کے انتہائی حساس نرسری وارڈ کے داخلی دروازے پر ایک شخص کی جانب سے کھلے عام ویلڈنگ کا کام کیا جا رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس دوران اسپتال کے اس مخصوص وارڈ میں انتہائی کم سن اور نومولود بچے بھی موجود تھے جن کی سانس کی نالیاں اور صحت اس قسم کے زہریلے دھوئیں اور چنگاریوں کے انتہائی قریب تھی۔ اسپتال جیسے حساس اور مقدس ادارے میں جہاں مریضوں خصوصاً شیرخوار بچوں کی جان کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے، وہاں اس نوعیت کی غفلت نے طبی عملے اور انتظامیہ کے کردار پر شدید سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ویلڈنگ کے دوران نکلنے والی خطرناک گیسیں، کیمیکل کا دھواں اور تیز روشنی نومولود بچوں کے نازک پھیپھڑوں اور صحت کے لیے فوری اور شدید خطرہ بن سکتی تھی۔ طبی ماہرین کے مطابق ایسے وارڈز میں جہاں انتہائی نگہداشت کے مریض موجود ہوں، تعمیراتی یا مرمتی کاموں کے لیے سخت ایس او پیز ہوتے ہیں اور بچوں کی موجودگی میں اس طرح کا کام کرنا سراسر مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔ دوسری جانب اس ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شہریوں اور سول سوسائٹی کے حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی فوری طور پر اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جانی چاہئیں اور اس سنگین لاپرواہی میں ملوث ذمہ داران کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے خطرناک واقعات کا اعادہ نہ روکا جا سکے اور بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔