LIVE
Loading Breaking News...

انویدیا کے سی ای او جینسن ہوانگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مصنوعی ذہانت پر حکمت عملی

News Image
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے کے لیے ایک نئی فورس بنانے اور مشیر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے انویدیا کے سربراہ جینسن ہوانگ ٹرمپ کے اہم اتحادی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے جاری مباحثے میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب انویدیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جینسن ہوانگ امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے حامی کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ حالیہ دنوں میں مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور ضابطہ بندی کے موضوع پر امریکی سیاسی اور کاروباری حلقوں میں شدید بحث جاری ہے، جس میں اب انویدیا کی قیادت کا کردار انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے آئندہ دور حکومت میں مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکہ کی برتری برقرار رکھنے کے لیے ایک خصوصی 'اے آئی فورس' بنانے اور ایک 'اے آئی زار' یا خصوصی مشیر نامزد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد کاروباری اور تکنیکی دنیا میں یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ اس نئی پالیسی کے نفاذ میں کون سی بڑی شخصیات اور کمپنیاں حکومت کا ساتھ دیں گی، اور یہیں پر جینسن ہوانگ کا نام سرفہرست آیا ہے۔ انویدیا دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے لیے درکار طاقتور سیمی کنڈکٹرز اور چپس تیار کرنے والی سب سے بڑی کمپنی مانی جاتی ہے۔ جینسن ہوانگ کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے اس وژن کی حمایت کو ٹیکنالوجی انڈسٹری میں ایک بڑا سیاسی اور معاشی اتحاد قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تعاون سے امریکہ میں مصنوعی ذہانت کی تحقیق اور ترقی کو نئی رفتار ملے گی اور ملکی سلامتی کے تقاضوں کو بھی بہتر طریقے سے پورا کیا جا سکے گا۔ دوسری جانب، اس پالیسی پر عوامی اور سیاسی سطح پر مختلف آراء بھی سامنے آ رہی ہیں جہاں کچھ حلقے اس کو ضروری قرار دے رہے ہیں تو کچھ اس کے ممکنہ اثرات پر تحفظات ظاہر کر رہے ہیں۔ تاہم، ان تمام مباحثوں کے درمیان انویدیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اشتراک آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار اور مستقبل کی پالیسیوں کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔