LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا امریکہ کو انتباہ، آبنائے ہرمز بند رکھنے کا فیصلہ

News Image
ایران کے پارلیمانی اسپیکر قالیباف نے کہا ہے کہ جب تک تہران کی تمام شرائط پوری نہیں کی جاتیں، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ ایران نے امریکہ کو مذاکرات کے لیے سات شرائط ارسال کی ہیں اور اب وہ امریکی ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔
تہران: ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو ایک سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک تہران کی تمام شرائط اور وعدے پورے نہیں کیے جاتے، اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز بند رکھی جائے گی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی حکام کو یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ واشنگتن حکومت ایک بار پھر خطے میں اپنی فوجی کارروائیوں کو دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے بنا رہی ہے۔ ایران کی جانب سے اس پیشرفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری تنازعہ اور جنگ کے خاتمے کے لیے سات نکاتی شرائط پر مشتمل مطالبات کا ایک مجموعہ واشنگتن کو ارسال کیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن اسی صورت میں ممکن ہے جب امریکہ ان بنیادی شرائط کو عملی طور پر تسلیم کرے گا۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ دوسری جانب، آبنائے ہرمز کی بندش کا فیصلہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اور معاشی منڈیوں کے لیے شدید تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ دنیا بھر کے توانائی کے ماہرین اس صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس اہم بحری گزرگاہ سے دنیا کا ایک بڑا حصہ تیل کی ترسیل کے لیے استفادہ کرتا ہے۔ اگر یہ بندش طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس تمام صورتحال میں اب تہران کی نگاہیں نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ ردعمل پر مرکوز ہیں۔ بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشمکش کا یہ نیا باب خطے کی سلامتی کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ صورتحال کو مزید بگاڑ سے بچایا جا سکے اور سفارتی ذرائع سے تنازعہ کا حل نکالا جا سکے۔