World
سعودی اور خلیجی حصص بازاروں میں مندی، حوثی حملوں کا اثر
یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر حملوں کے دعوے کے بعد سعودی اور خلیجی حصص بازاروں میں مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر حملوں کے تازہ دعوے کے بعد سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے حصص بازاروں میں مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی اور سکیورٹی خدات کے پیش نظر سرمایہ کاروں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں، جس کا براہ راست اثر اسٹاک ایکسچینج پر پڑا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نہ صرف مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے بلکہ توانائی کی سپلائی لائنز اور عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اپنی تیل کی برآمدات کو جاری رکھنے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے متبادل راستوں اور حکمت عملیوں پر غور کر رہا ہے۔ جنگی صورتحال کے مزید سنگین ہونے کے خدشات کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر خطے میں جاری تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل نہ کیا گیا تو خلیجی خطے کی اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے اعصاب شکن تناؤ کا شکار رہنے کا اندیشہ ہے۔
دوسری جانب، عراق کے علاقے میسان سے لے کر سعودی عرب تک ڈرون حملوں کے واقعات نے سیکورٹی کے نئے سوالات کو جنم دیا ہے، جس سے اس پورے خطے کو بین الاقوامی سطح پر خاصی توجہ مل رہی ہے۔ عالمی برادری اور علاقائی طاقتیں اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے پر زور دے رہی ہیں تاکہ معاشی بحران اور توانائی کے بحران سے بچا جا سکے۔ سعودی حکام کی جانب سے ملکی سلامتی اور دفاع کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ معاشی ماہرین آئندہ دنوں میں اسٹاک مارکیٹ کے رویے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔