LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب کا ایم برج سے انخلا اور ڈی ڈالرائزیشن پر اثرات

News Image
سعودی عرب نے چین کے زیرِ قیادت ڈیجیٹل کرنسی کے بین الاقوامی پلیٹ فارم ایم برج سے باضابطہ طور پر کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ اس فیصلے سے عالمی سطح پر امریکی ڈالر کے متبادل تلاش کرنے کی کوششوں اور ڈی ڈالرائزیشن کے رجحان پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ سعودی عرب نے چین کے زیرِ قیادت بین الاقوامی ڈیجیٹل کرنسی پلیٹ فارم 'ایم برج' (mBridge) سے اپنے قدم پچھے ہٹا لیے ہیں۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں امریکی ڈالر کے غلبے کو کم کرنے یعنی 'ڈی ڈالرائزیشن' کی بحث عروج پر تھی اور اس پلیٹ فارم کو ڈالر کے ایک متبادل نظام کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق سعودی عرب کا اس پروجیکٹ سے نکلنا اس سمت میں اٹھنے والے قدموں کو سست کر سکتا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایم برج پراجیکٹ کا مقصد مختلف ممالک کے درمیان ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے سرحد پار ادائیگیوں کو تیز اور محفوظ بنانا تھا، جس میں چین اور دیگر اہم ممالک شامل تھے۔ تاہم، سعودی عرب کے انخلا کے بعد اس پلیٹ فارم کی عالمی حیثیت اور مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ دوسری جانب، ریاض بینک کی جانب سے دیگر بلاک چین ٹیکنالوجیز بالخصوص ریپل (Ripple) کے ساتھ تعاون اور تلاش کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب اپنے مالیاتی شراکت داروں میں تنوع لا رہا ہے۔ اس فیصلے کو اقتصادی مبصرین کی جانب سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ سعودی عرب عالمی معیشت اور تیل کی تجارت میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ اس بات چیت کا یہ مطلب نہیں کہ سعودی عرب نے اپنے روایتی اقتصادی اتحادوں کو مکمل طور پر خیرباد کہہ دیا ہے، لیکن یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی مالیاتی پالیسیوں میں انتہائی محتاط اور متوازن رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ امریکی ڈالر کی عالمی حیثیت کو فی الحال اس فیصلے سے ایک بڑی تقویت ملی ہے کیونکہ ڈی ڈالرائزیشن کے راستے میں آنے والی رکاوٹیں مزید واضح ہو گئی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا چین اس پلیٹ فارم کو دیگر ممالک کے ساتھ کامیابی سے آگے بڑھا پاتا ہے یا نہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب جیسے بڑے اقتصادی کھلاڑی کے بغیر کسی بھی بین الاقوامی متبادل نظام کے لیے عالمی سطح پر مقبولیت حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ اس تمام صورتحال میں عالمی مالیاتی ادارے اور سرمایہ کار انتہائی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ دنیا کے بدلتے ہوئے مالیاتی منظرنامے کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔