Technology
بغیر اسٹیئرنگ اور بریک پیڈل کے روبوٹ ٹیکسیوں کی منظوری
امریکہ میں وفاقی ریگولیٹرز نے بغیر روایتی دستی کنٹرولز جیسے کہ اسٹیئرنگ وہیل کے روبوٹ ٹیکسیوں کی چلنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ مستقبل قریب میں ان گاڑیوں سے بریک پیڈل بھی ہٹائے جانے کا امکان ہے تاکہ جدید خودکار ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جا سکے۔
امریکہ میں وفاقی ریگولیٹرز نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے بغیر دستی کنٹرولز کے روبوٹ ٹیکسیوں کو سڑکوں پر لانے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس نئے اقدام کے تحت ان گاڑیوں کو چلانے کے لیے روایتی اسٹیئرنگ وہیل کی موجودگی کی شرط ختم کر دی گئی ہے، جس سے مستقبل کی خودکار ٹرانسپورٹ کے لیے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قوانین اب تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔
اس پیش رفت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ریگولیٹری اداروں کی جانب سے اب ایسی گاڑیوں کی راہ بھی ہموار کی جا رہی ہے جن میں مستقبل میں بریک پیڈل بھی موجود نہیں ہوں گے۔ روایتی گاڑیوں کے برعکس، یہ خودکار گاڑیاں مکمل طور پر سینسرز، مصنوعی ذہانت اور جدید ترین کمپیوٹر سسٹمز کے ذریعے کنٹرول کی جائیں گی۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کا طویل عرصے سے یہ مطالبہ تھا کہ پرانے قوانین کو تبدیل کیا جائے تاکہ بغیر ڈرائیور اور بغیر کنٹرولز والی گاڑیوں کو تجارتی بنیادوں پر چلایا جا سکے، اور اب یہ خواب حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
اگرچہ اس ٹیکنالوجی سے مسافروں کی نقل و حمل میں انقلابی تبدیلیاں آنے کی توقع ہے، لیکن اس حوالے سے حفاظتی اقدامات اور مسافروں کے تحفظ پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ وفاقی ادارے اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ سڑکوں پر آنے والی یہ روبوٹ ٹیکسیاں تمام تر حفاظتی پیمانوں پر پورا اتریں تاکہ کسی بھی ناگوار حادثے سے بچا جا سکے۔ ناقدین اور ماہرینِ قانون اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ حادثات کی صورت میں ذمہ داری کس پر عائد ہوگی، تاہم مجموعی طور پر اس صنعت کے لیے یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔
آنے والے مہینوں میں مزید کمپنیوں کو اس قسم کی بغیر اسٹیئرنگ والی گاڑیاں سڑکوں پر لانے کے لیے پرمٹ ملنے کی توقع ہے۔ دنیا بھر کی آٹوموبائل کمپنیاں اس شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور مستقبل کی ٹرانسپورٹیشن اب ڈرائیور کے بغیر سفر کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ اس پیش رفت سے نہ صرف شہری نقل و حمل کے نظام میں بہتری آئے گی بلکہ ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔