LIVE
Loading Breaking News...

نیویارک فیشن شو تنازع: ایگزیکٹو نے استعفیٰ دے دیا

News Image
نیویارک فیشن شو کے دوران پیٹا کے حامی مظاہرین کو جسمانی طور پر روکنے والے فیشن ایگزیکٹو اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد فیشن کی دنیا میں جانوروں کے حقوق اور سکیورٹی کے معاملات پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
نیویارک فیشن ویک کے دوران پیش آنے والے ایک ہنگامہ خیز واقعے کے بعد فیشن انڈسٹری میں ہلچل مچ گئی ہے، جہاں جانوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی تنظیم پیٹا کے مظاہرین کو زبردستی روکنے والے ایک سرکردہ فیشن ایگزیکٹو نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ واقعہ نیویارک کے ایک نمایاں رن وے شو کے دوران پیش آیا تھا، جہاں پیٹا کے کارکنان نے فیشن شو کے دوران اچانک احتجاج شروع کر دیا تھا۔ احتجاج کرنے والوں کا مقصد فیشن میں جانوروں کی کھالوں کے استعمال کے خلاف آواز بلند کرنا تھا، جس پر فیشن ایگزیکٹو نے مبینہ طور پر خود مداخلت کرتے ہوئے مظاہرین کو جسمانی طور پر روکا اور ہٹانے کی کوشش کی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جس کے بعد دنیا بھر میں اس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم پیٹا نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور فیشن انڈسٹری کے اندر اس طرح کے رویے کو ناقابل قبول قرار دیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر متعلقہ فیشن حکام اور ایگزیکٹو سے ملاقات کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے پرامن احتجاج کرنے والوں کے ساتھ اس قسم کے ناروا سلوک کو روکا جا سکے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق، اس دباؤ اور تنازع کے بعد بالآخر فیشن ایگزیکٹو نے اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک فیشن انڈسٹری کی خدمت کرنے کے بعد اس طرح رخصت ہونا ایک جذباتی اور مشکل فیصلہ تھا، لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر یہی مناسب سمجھا گیا۔ فیشن انڈسٹری کے دیگر رہنماؤں نے بھی اس واقعے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے، جہاں کچھ لوگ ایگزیکٹو کے اقدام کو شو کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں، وہیں اکثریت کا یہ ماننا ہے کہ پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف جسمانی طاقت کا استعمال کسی بھی طرح سے درست نہیں ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر فیشن شوز کی سکیورٹی، انتظامیہ کے رویے اور جانوروں کے حقوق کے مباحث کو دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں فیشن انڈسٹری میں ان موضوعات پر مزید بحث اور پالیسی سازی کی توقع کی جا رہی ہے۔