LIVE
Loading Breaking News...

ساؤدی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی، تازہ صورتحال

News Image
یمنی گروپ کی جانب سے مملکت پر مزید حملوں کی دھمکی کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ سعودی عرب اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے دفاعی اور سفارتی سطح پر مشاورت کر رہا ہے۔
یمنی حوثی گروپ کی جانب سے حالیہ دنوں میں سعودی عرب پر مزید حملوں کی کھلی دھمکی کے بعد، خطے میں ایک بار پھر سیکیورٹی خدات سر اٹھانے لگے ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یمنی گروپ کی اس وارننگ کے بعد مملکت کے عسکری اورنگبانوں نے اپنی دفاعی پوزیشن کا از سر نو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بیک وقت عسکری تیاریوں اور سفارتی کوششوں پر یکساں توجہ دے رہا ہے تاکہ ملک کی سرحدی سلامتی کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ حالیہ برسوں میں خطے میں امن قائم کرنے اور یمن کے تنازع کو سیاسی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے کئی بین الاقوامی کوششیں کی گئی ہیں، جن میں سعودی عرب نے بھی مثبت کردار ادا کیا۔ تاہم، وقفے وقفے سے آنے والی دھمکیوں اور حملوں کے اعلانات نے امن کے اس عمل کو سبوتاژ کرنے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ سعودی عسکری نظام کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، لیکن ریاض انتظامیہ خطے میں کسی بڑی جنگ یا عدم استحکام سے بچنے کے لیے محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ سفارتی محاذ پر بھی سعودی عرب اپنے بین الاقوامی اتحادیوں اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ اس حوالے سے مختلف فورمز پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے تاکہ حوثی گروپ کو مزید اشتعال انگیزی سے روکا جا سکے۔ سلامتی کونسل اور دیگر عالمی ادارے بھی یمن کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ بحیرہ احمر اور خطے کے اہم تجارتی راستوں پر کسی بھی قسم کی کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی پر پڑتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ یمنی گروپ اپنی دھمکیوں پر کس حد تک عمل کرتا ہے اور سعودی عرب اس چیلنج کا جواب کس مؤثر حکمت عملی کے ساتھ دیتا ہے۔ مملکت کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ملک کے دفاع کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے اور سیکیورٹی اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے ہائی الرٹ رکھا گیا ہے، تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔