Politics
ٹرمپ کی فنڈ ریزر میریڈیتھ او رورک کون ہیں اور ان کے مطالبات کیا ہیں
ڈونلڈ ٹرمپ کی چیف فنڈ ریزر میریڈیتھ او رورک، جنہیں 'پرنسس آف ڈارکنس' کہا جاتا ہے، صدر کے قریبی حلقے میں شامل ہونے کے خواہشمند بڑے کارپوریٹ رہنماؤں سے بھاری رقوم نکلوانے میں ماہر ہیں۔ ان کی فنڈ ریزنگ کی حکمت عملی نے بڑے بڑے چیف ایگزیکٹوز کو دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔
امریکی سیاست کے ایوانوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مالیاتی امور اور فنڈ ریزنگ کے حوالے سے ایک نیا اور سنسنی خیز باب سامنے آیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی فنڈ ریزر اور ڈونر وسپرر میریڈیتھ او رورک، جنہیں سیاسی حلقوں میں 'پرنسس آف ڈارکنس' یعنی تاریکی کی شہزادی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ان دنوں انتہائی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ یہ تجربہ کار فنڈ ریزر ان تمام افراد سے بھاری مالیاتی فوائد حاصل کرنے میں ید طولیٰ رکھتی ہیں جو صدر کے قریبی حلقے یا وائٹ ہاؤس کے اثر و رسوخ میں شامل ہونے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ ان کی یہ حکمت عملی بڑے بڑے کارپوریٹ اداروں اور کمپنیوں کے سربراہان کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
ذرائع کے مطابق، میریڈیتھ او رورک کی جانب سے کی جانے والی رات گئے وائٹ ہاؤس کی کالز اور پچاس ملین ڈالر تک کے مطالبات نے بڑے بڑے کارپوریٹ چیف ایگزیکٹوز (CEOs) کو پسینے چھڑا دیے ہیں۔ جو لوگ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں یا سیاسی میدان میں اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے ہیں، انہیں اکثر اس فنڈ ریزر کے سخت مطالبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی یہ سخت گیر مذاکراتی صلاحیتیں اور مالیاتی اہداف حاصل کرنے کا انوکھا انداز واشنگٹن کے سیاسی اور کاروباری حلقوں میں خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
میریڈیتھ او رورک طویل عرصے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہمات اور مالیاتی امور سے جڑی رہی ہیں۔ وہ نہ صرف ڈونرز کو قائل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ سیاسی طاقت کے مراکز تک رسائی دینے کے عوض بڑی رقوم کے حصول کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔ ناقدین اور حامی دونوں ہی ان کی اس صلاحیت کے اعتراف میں پیش پیش ہیں کہ وہ سیاسی عطیات کو کس طرح مؤثر انداز میں کارآمد بناتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی ان تفصیلات نے ایک بار پھر امریکی سیاست میں پیسے اور طاقت کے گہرے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں کروڑوں ڈالر کے عطیات کے بغیر سیاسی رسوخ کا حصول ناممکن دکھائی دیتا ہے۔