LIVE
Loading Breaking News...

کوہاٹ حملہ اور پاکستان کا افغان حکومت سے سخت احتجاج

News Image
پاکستان نے کوہاٹ میں پولیس تنصیب پر ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردوں کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ وفاقی وزارتِ اطلاعات کے مطابق اس گھناؤنے حملے میں ملوث دہشت گردوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔
کوہاٹ میں ایک پولیس تنصیب اور ملحقہ مسجد میں ہونے والے ہولناک خودکش حملے کے بعد پاکستان نے ایک بار پھر کابل میں موجود افغان طالبان حکومت کو دوٹوک الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وزارتِ اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس پرتشدد واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ اس طرح کے حملے دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس المناک حملے کے ذمہ دار دہشت گردوں کے جڑیں اور سہولت کار افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ اس دھماکے کے نتیجے میں مقامی لوگوں اور پولیس اہلکاروں کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس پر پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ واقعے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد ملک میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوصلے پست کرنا ہے، تاہم دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ہر صورت خاک میں ملا دیا جائے گا۔ حکومتِ پاکستان نے ایک بار پھر کابل انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ اسلام آباد بارہا افغان حکومت کو اس بات سے آگاہ کر چکا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے عناصر افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں استعمال کر رہے ہیں اور وہیں سے پاکستان میں تخریب کاری کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اگر طالبان حکومت نے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور فیصلہ کن کارروائی نہ کی تو پاکستان اپنی سلامتی اور شہریوں کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔