World
ایران اور امریکہ میں کشیدگی، حوثی حملوں کے بعد دھمکیوں کا تبادلہ
یمنی حوثی گروپ کی جانب سے حملوں میں شدت آنے کے بعد امریکہ اور ایران کے مابین لفظی جنگ اور دھمکیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ اس صورتحال سے مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع تر علاقائی تنازعے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یمنی حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر اور خطے کے دیگر اہم حصوں میں حملوں میں اضافے کے بعد امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ دونوں ممالک کے مابین شدید لفظی دھمکیوں کا تبادلہ ہوا ہے جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تنازعہ مزید پھیل کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ واشنگٹن نے حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تہران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور بین الاقوامی بحری تجارت کو شدید خطرات سے دوچار کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے بھی امریکی اور اتحادی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا انتباہ جاری کیا ہے، جس سے خطے میں عسکری محاذ آرائی کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تازہ کشیدگی سے سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی انتہائی نازک موڑ پر داخل ہو چکی ہے۔ بین الاقوامی برادری نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے اور خطے میں امن و امان کی بحالی ممکن ہو سکے۔