LIVE
Loading Breaking News...

باورچی خانے کے کچرے سے کھاد بنانے کا طریقہ اور منافع بخش کاروبار

News Image
گھر کے کچرے بالخصوص باورچی خانے کے فضلے کو ری سائیکل کر کے بہترین نامیاتی کھاد تیار کی جا سکتی ہے۔ اس ماحول دوست کاروبار سے ماہانہ تیس ہزار روپے تک کی معقول آمدنی حاصل کرنا اب ممکن ہو گیا ہے۔
ماہرینِ ماحولیات اور کاروباری مشیران کی جانب سے ایک نہایت مفید اور ماحول دوست روزگار کا طریقہ متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت گھر کے باورچی خانے کے فضلے اور کچرے کو کارآمد بنا کر ماہانہ تیس ہزار روپے تک کی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔ عام طور پر گھروں میں سبزیوں کے چھلکے، پھلوں کے باقیات اور دیگر غذائی فضلہ بیکار سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے، لیکن مناسب تکنیک کے ذریعے اس تمام کچرے کو بہترین قسم کی نامیاتی کھاد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل کو کمپوسٹنگ کہا جاتا ہے، جو نہ صرف ماحول کو صاف رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ گھریلو پیمانے پر آمدنی کا ایک بہترین ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ کھاد بنانے کے اس چھوٹے سے کاروبار کے لیے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ گھر کے کسی بھی کونے میں یا چھت پر ایک مناسب سائز کا ڈبہ یا گڑھا بنا کر اس میں باورچی خانے کا کچرہ، سوکھے پتے اور مٹی تہہ بہ تہہ ڈالی جاتی ہے۔ چند ہفتوں کے اندر یہ تمام فضلہ گل سڑ کر انتہائی اعلیٰ معیار کی نامیاتی کھاد کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جسے پودوں اور فصلوں کے لیے انتہائیمفید سمجھا جاتا ہے۔ اس تیار شدہ کھاد کو مقامی نرسریوں، کسانوں اور باغبانی کے شوقین افراد کو فروخت کر کے باآسانی اچھی خاصی رقم کمائی جا سکتی ہے۔ آج کے دور میں جہاں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں گھریلو خواتین اور نوجوان اس چھوٹے سے ہنر کو اپنا کر نہ صرف اپنے گھر کے اخراجات پورے کر سکتے ہیں بلکہ ملک میں کچرے کے مسائل کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت اور نجی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ اس قسم کے ماحول دوست اقدامات کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔