AI
ڈونلڈ ٹرمپ کا مصنوعی ذہانت کے نئے مشیر کا اعلان
نامور امریکی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے ایک نئے مشیر کے تقرر کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، اس تقرر سے متعلق تاحال کوئی تفصیلی خاکہ یا شیڈول جاری نہیں کیا گیا ہے۔
امریکی سیاست اور ٹیکنالوجی کے حلقوں میں اس وقت ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جب نامور سیاسی شخصیت ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے امور کے لیے ایک نئے مشیر کا تقرر کریں گے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس کے معیشت، سکیورٹی اور روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے اس حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے آگے رہنے کی ضرورت ہے، اور اسی مقصد کے تحت اس اہم عہدے پر تقرری کی جائے گی۔
تاہم، اپنے اس بیان کے دوران انہوں نے اس متوقع تقرر سے متعلق کوئی خاص یا تفصیلی معلومات فراہم نہیں کیں۔ مبصرین اور ماہرین کے مطابق، یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ مشیر کس شخصیت پر مشتمل ہوگا یا اس کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ اس کے علاوہ، یہ بھی ابھی تک سامنے نہیں آ سکا کہ آیا یہ مشیر وائٹ ہاؤس کے تحت کام کرے گا یا کسی آزاد کمیٹی کا حصہ بنے گا۔ اس قسم کے ابہام کے باوجود، ٹیکنالوجی انڈسٹری اس اعلان کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہے کیونکہ یہ پالیسیاں مستقبل میں امریکی ٹیک کمپنیوں اور عالمی سطح پر اے آئی کے ضابطہ کار پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔
ماضی میں بھی مصنوعی ذہانت کے حوالے سے مختلف پالیسیاں زیر بحث رہی ہیں اور دنیا بھر کے ممالک اس جدید ترین ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کو یقینی بنانے کے لیے قوانین وضع کر رہے ہیں۔ امریکہ میں بھی اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ اے آئی کے خطرات کو کم کیا جائے اور اس کی ترویج کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے مشیر کی تقرری کا عندیہ اس بات کا غماز ہے کہ آنے والے دنوں میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں پالیسی سازی کو مزید اہمیت دی جائے گی، بشرطیکہ اس کے عملی خدوخال جلد ہی واضح کیے جائیں۔