World
اردن اور بحرین کا سعودی عرب پر حوثی حملوں پر اظہارِ تشویش اور مذمت
اردن اور بحرین نے سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی اور خودمختاری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے سعودی اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
علاقائی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اردن اور بحرین نے سعودی عرب کے خلاف ہونے والے حالیہ حوثی حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دونوں برادر اسلامی ممالک نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام خطے کے مجموعی امن کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی آنچ برداشت نہیں کی جائے گی۔ حوثی ملیشیا کی جانب سے حالیہ کارروائیوں پر خطے بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جس پر خلیجی اور عرب ممالک نے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر زور دیا ہے۔
امّان اور منامہ کی طرف سے جاری کردہ الگ الگ بیانات میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے بزدلانہ حملے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہیں۔ اردنی حکومت نے اپنے بیان میں اعادہ کیا کہ مملکتِ اردن ہر مشکل وقت میں سعودی قیادت اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور سعودی عرب کے دفاع کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
بحرینی وزارتِ خارجہ نے بھی اپنے ردعمل میں اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردانہ کارروائیاں خطے میں سعودی عرب کے باوقار اور پرامن کردار کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ بحرین نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا کی جانب سے بڑھتی ہوئی جارحیت کا فوری نوٹس لے اور اس طرح کے حملوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات عمل میں لائے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اردن اور بحرین کی جانب سے یہ بروقت بیانات سعودی عرب کے ساتھ گہرے سیاسی اور دفاعی تعلقات کا مظہر ہیں۔ دونوں ممالک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بحران کا واحد حل سیاسی بات چیت ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ملکی دفاع اور خودمختاری کا تحفظ ہر ریاست کا بنیادی حق اور فریضہ ہے، جس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔