LIVE
Loading Breaking News...

ڈیفنس وکلاء کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال: نئی رپورٹ

News Image
نیشنل ایسوسی ایشن آف کریمنل ڈیفنس لائرز کی نئی رپورٹ کے مطابق دفاعی وکلاء پر لازم ہے کہ وہ ذمہ دارانہ طریقے سے مصنوعی ذہانت کو اپنائیں۔ استغاثہ کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر وکلاء کو بھی احتیاطی تدابیر کے ساتھ اس کی طرف آنا چاہیے۔
واشنگٹن (نیکسورا نیوز اردو) نیشنل ایسوسی ایشن آف کریمنل ڈیفنس لائرز کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فوجداری مقدمات کے دفاعی وکلاء کو مصنوعی ذہانت کے ٹولز کو ذمہ دارانہ اور محتاط انداز میں اپنانے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جس طرح پراسیکیوشن یا استغاثہ کے ادارے تیزی سے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں، اسی طرح بچاؤ کے وکلاء پر بھی یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس میدان میں پیچھے نہ رہیں۔ تاہم، اس ٹیکنالوجی کے استعمال میں اندھا دھند تقلید کے بجائے گہری احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے سسٹمز قانونی تحقیق، دستاویزات کی جانچ پڑتال اور مقدمات کی تیاری میں مدد فراہم کر سکتے ہیں جس سے وقت کی بچت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود، وکلاء کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ اے آئی کے ٹولز کبھی کبھار غلط یا گمراہ کن معلومات بھی فراہم کر سکتے ہیں جسے قانونی اصطلاح میں ہ্যালوسینیشن کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دفاعی وکلاء کو ان ڈیجیٹل سسٹمز پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے اپنے پیشہ ورانہ تجربے اور جانچ پڑتال کے عمل کو مقدم رکھنا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کا داخلہ ناگزیر ہو چکا ہے، اور جو وکلاء اس سے ناواقف رہیں گے وہ اپنے موکلین کو بہترین دفاع فراہم کرنے میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔ اس تناظر میں ایسوسی ایشن کی یہ رپورٹ وکلاء کے لیے ایک رہنما خطوط کا درجہ رکھتی ہے جو انہیں مصنوعی ذہانت کے نفع و نقصان سے آگاہ کرتی ہے۔ آخر میں، رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ قانون کی تعلیم دینے والے اداروں اور بار کونسلز کو چاہیے کہ وہ وکلاء کے لیے مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اور درست استعمال سے متعلق تربیتی پروگرام منعقد کریں۔ اس سے نہ صرف قانونی پیشے کے معیار کو بلند رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ عدالتی کارروائیوں میں شفافیت اور انصاف کے تقاضے بھی بہتر طریقے سے پورے ہو سکیں گے۔