LIVE
Loading Breaking News...

انگلینڈ اور ویلز میں جنسی جرائم کی خصوصی عدالتوں کا قیام

News Image
برطانیہ میں جنسی جرائم کے متاثرین کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں جن میں ملزمان اور متاثرین کے لیے الگ راستے اور انتظار گاہیں ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد انصاف کے حصول کے دوران متاثرین کی پرائیویسی اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
برطانیہ کے عدل و انصاف کے نظام میں ایک اہم اور تاریخی اصلاحات کا آغاز کرتے ہوئے انگلینڈ اور ویلز میں جنسی جرائم کے مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس نئے لائحہ عمل کا بنیادی مقصد ان افراد کو تحفظ فراہم کرنا ہے جو جنسی تشدد یا استحصال جیسے سنگین جرائم کا شکار ہوتے ہیں تاکہ وہ بغیر کسی خوف اور ذہنی دباؤ کے انصاف کے حصول کے لیے عدالت کا رخ کر سکیں۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت عدالتوں کی عمارتوں میں خصوصی تبدیلیاں کی جائیں گی تاکہ متاثرین اور ملزمان کے درمیان کسی بھی قسم کا سامنا نہ ہو۔ نئے نظام کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ متاثرین کے لیے عمارت میں ایک علیحدہ نجی داخلی راستہ (private entrance) بنایا جائے گا جس کے ذریعے وہ عدالت میں داخل ہو سکیں گے۔ اس کے علاوہ، ملزمان اور ان کے حامیوں سے مکمل علیحدگی کو یقینی بنانے کے لیے متاثرین کے لیے ایک الگ نجی انتظار گاہ (private waiting room) کا انتظام بھی کیا جائے گا تاکہ وہ عدلیہ کی کارروائی کے دوران محفوظ ماحول میں رہ سکیں۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے متاثرین کا عدالتی نظام پر اعتماد بحال ہوگا اور وہ زیادہ حوصلے کے ساتھ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکیں گے۔ حکومت کی جانب سے اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے تمام ضروری تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں اور توقع ہے کہ جلد ہی اس نظام کو باقاعدہ طور پر ملک بھر میں نافذ کر دیا جائے گا۔