World
ارجنٹائن: صدر میلی کی کفایت شعاری کے خلاف 'مارچ آف اینگر'
ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں ہزاروں مظاہرین نے صدر خاویر میلی کی سخت اقتصادی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔ مظاہرین نے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے مالیاتی کٹس اور کفایت شعاری کے اقدامات کو عوام دشمن قرار دیا۔
ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس کی سڑکیں اس وقت جل اٹھی جب ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے صدر خاویر میلی کی متنازعہ اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں کا رخ کیا۔ اس بڑے احتجاجی مظاہرے کو 'مارچ آف اینگر' کا نام دیا گیا تھا جس کا مقصد حکومت کی جانب سے جاری کردہ سخت کفایت شعاری کے اقدامات کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کرنا تھا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور حکومت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری پر قابو پانے کا مطالبہ کیا۔
صدر خاویر میلی نے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملکی معیشت کو پٹری پر لانے کے لیے کئی سخت اور غیر مقبول فیصلے کیے ہیں جن میں سرکاری اخراجات میں کمی، سبسڈی کا خاتمہ اور سرکاری محکموں میں اصلاحات شامل ہیں۔ ان اقدامات کی وجہ سے ملک کے غریب اور متوسط طبقے کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عام شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے روزمرہ کی اشیائے خوردونوش، گیس، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے جس سے ان کا جینا محال ہو گیا ہے۔
اس احتجاجی مارچ میں لیبر یونینز، طلباء تنظیموں، سماجی کارکنوں اور عام شہریوں نے بھرپور شرکت کی۔ مظاہرین کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کو عوام کی مشکلات کا احساس نہیں ہے اور وہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دباؤ میں آکر ایسے فیصلے کر رہی ہے جو ملکی مفاد میں نہیں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اپنی معاشی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو ملک بھر میں تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا اور عام ہڑتالیں بھی کی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب، حکومتیحلقوں کا مؤقف ہے کہ ارجنٹائن کو طویل عرصے سے معاشی بحران کا سامنا ہے اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے یہ کڑوی گولیاں نگلنا ناگزیر ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان اصلاحات کے طویل المدتی مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور مہنگائی پر قابو پایا جا سکے گا۔ تاہم، موجودہ صورتحال نے ارجنٹائن کے سیاسی اور سماجی منظرنامے کو گرما دیا ہے اور آنے والے دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔