LIVE
Loading Breaking News...

ہیتی کے صدر کے قتل کیس میں اٹھارہ ملزمان کی امریکہ منتقلی

News Image
ہیتی کے صدر جووینل موئیس کے 2021 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں اٹھارہ ملزمان کو امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ امریکی وفاقی عدالت فلوریڈا میں ان افراد پر امریکی سرزمین سے اس بین الاقوامی سازش کی منصوبہ بندی کرنے کا مقدمہ چلایا جائے گا۔
ہیتی کے مقتول صدر جووینل موئیس کے سن 2021 میں ہونے والے ہلاکت خیز قتل کے مقدمے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اس بین الاقوامی سازش میں مبینہ طور پر ملوث اٹھارہ ملزمان کو امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ یہ ملزمان اس سازش کے تانے بانے امریکہ کی سرزمین پر بیٹھ کر بن رہے تھے، اور اب انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے امریکی حکام کے سپرد کیا گیا ہے۔ امریکی ریاست فلوریڈا کی ایک وفاقی عدالت میں ان تمام افراد کے خلاف باضابطہ مقدمہ چلایا جائے گا۔ تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ اس قتل کی منصوبہ بندی اور مالی معاونت کا کچھ حصہ امریکہ کے اندر سے کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے امریکی نظامِ انصاف اس معاملے میں براہ راست تحقیقات اور کارروائی کا اختیار رکھتا ہے۔ عدالت میں ملزمان پر ٹرانس نیشنل کرائم اور صدر کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا ہوگا۔ صدر جووینل موئیس کو ان کی رہائش گاہ پر رات کی تاریکی میں قتل کیا گیا تھا، جس واقعے نے دنیا بھر میں سنسنی پھیلا دی تھی اور ہیتی کو شدید سیاسی اور سکیورٹی بحران میں دھکیل دیا تھا۔ قتل کی اس گھناؤنی واردات کے بعد سے بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا تھا تاکہ اس کارروائی کے اصل ماسٹر مائنڈز اور تمام کرداروں کو بے نقاب کیا جا سکے۔ امریکہ منتقلی کے بعد ان اٹھارہ ملزمان سے مزید پوچھ گچھ متوقع ہے تاکہ اس سازش کے تمام پوشیدہ پہلوؤں کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس عدالتی کارروائی سے امید کی جا رہی ہے کہ ہیتی کے سابق صدر کے قتل کے انصاف کے حصول میں اہم مدد ملے گی اور اس اندوہناک واقعے کے ذمہ دار تمام عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے گا۔