LIVE
Loading Breaking News...

قطری وزیراعظم کا بیان: امریکہ اسرائیل جنگ اور ایران پر اثرات

News Image
قطری وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ایران پر پڑنے والے اثرات کو ایک بڑے زلزلے سے تشبیہ دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے قطر کی سرمایہ کاری کی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کا بھی باضابطہ اعلان کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر انتہائی تشویشناک خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے خطے پر انتہائی خطرناک اور دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ قطری وزیراعظم نے ان اثرات کو ایک بڑے زلزلے سے تشبیہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے نتیجے میں پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ خطاب کے دوران شیخ محمد نے خطے میں جاری کشیدگی کو فوری طور پر ختم کرنے اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قطر ہمیشہ سے خطے میں امن و امان کا خواہاں رہا ہے اور تمام فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ محاذ آرائی سے نہ صرف معاشی ترقی کے منصوبے متاثر ہو رہے ہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگیاں بھی شدید خطرے میں پڑ گئی ہیں، لہٰذا عالمی برادری کو اس بحران کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ امریکہ اسرائیل جنگ کے اثرات پر کھل کر بات کرنے کے علاوہ، قطری وزیراعظم نے اپنے ملک کی اقتصادی پالیسیوں میں ایک بڑی اور اہم تبدیلی کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ قطر اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملی میں ردوبدل کر رہا ہے تاکہ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات کے مطابق معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس نئی حکمت عملی کے تحت خطے کے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے معاشی شراکت داروں کی تلاش اور پائیدار منصوبوں پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق قطر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر توانائی کے بحران اور معاشی غیر یقینی کی صورتحال گہری ہو رہی ہے۔ قطری وزیراعظم کی جانب سے خطے کی اس نازک صورتحال کو 'زلزلے' سے تعبیر کرنا اس بات کا غماز ہے کہ خلیجی ممالک اس تنازع کے ممکنہ تباہ کن نتائج سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ دنیا بھر کے سیاسی رہنما اور مبصرین اس خطاب کو موجودہ عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔