LIVE
Loading Breaking News...

امریکا چین مذاکرات، ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات کی تیاریاں

News Image
امریکا اور چین کے اعلیٰ حکام نے نیویارک میں ملاقات کی ہے جو رواں ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان شیڈول سربراہی اجلاس سے قبل منعقد کی گئی ہے۔ اس بیٹھک کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سیاسی تعلقات میں استحکام لانا ہے۔
امریکہ اور چین کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے اور تجارتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کے اہم مذاکرات کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ نیویارک میں ہونے والی اس ملاقات میں امریکی نمائندوں اور چینی قیادت کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی ہے، جس کا بنیادی مقصد دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان موجودہ تناؤ کو کم کرنا اور تعاون کے نئے راہیں تلاش کرنا ہے۔ اس ملاقات کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ آنے والے دنوں میں ہونے والے ایک بڑے سفارتی اور سیاسی اجتماع کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس اہم بیٹھک میں امریکی وفد کی قیادت اسکاٹ بیسنٹ کر رہے ہیں جبکہ چینی فریق کی جانب سے ہی لائفینگ مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات رواں ہفتے متوقع اس سربراہی اجلاس کے تناظر میں ہو رہی ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ براہ راست ملاقات کریں گے۔ اس ابتدائی اور اعلیٰ سطح کے رابطے کا مقصد دونوں صدور کی ملاقات سے قبل تمام متنازعہ امور پر ابتدائی اتفاق رائے پیدا کرنا اور اہم پالیسی نکات کو حتمی شکل دینا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی پالیسیاں، عالمی معیشت اور تکنیکی شعبوں میں مسابقت طویل عرصے سے عالمی منڈیوں کے لیے تشویش کا باعث رہی ہے۔ ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان اس طرح کے براہ راست اور اعلیٰ سطحی مذاکرات عالمی معاشی استحکام کے لیے ایک خوش آئند قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔ فریقین کی جانب سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ بات چیت نہ صرف موجودہ غلط فہمیوں کو دور کرے گی بلکہ مستقبل میں تعاون کے نئے دروازے بھی وا کرے گی۔ رواں ہفتے شیڈول ٹرمپ اور شی جن پنگ کی متوقع ملاقات کے حوالے سے بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں زبردست تجسس پایا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے تجارتی اور سیاسی تجزیہ کار اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ دونوں سپر پاورز کے سربراہان کس لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہیں۔ نیویارک میں جاری یہ موجودہ مذاکرات اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں جن کے نتائج آنے والے دنوں میں عالمی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔