World
امریکہ اور ایران مذاکرات کی بحالی، قطر کی اہم سفارتی کوششیں
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ثالثی کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے رابطے جاری ہیں۔ یہ سفارتی کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اہم معاہدوں کی بحالی کی سمت میں ایک اہم قدم ہیں۔
دوحہ: قطر نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق، اس وقت دو طرفہ سفارتی کوششوں کو پروان چڑھانے کے لیے ثالث کا کردار ادا کیا جا رہا ہے تاکہ دونوںمملکتوں کے مابین پیدا ہونے والے فاصلوں کو کم کیا جا سکے۔ عالمی میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ قطر خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے تمام ممکنہ سفارتی ذرائع بروئے کار لا رہا ہے اور فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے رابطے جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، قطر نے ماضی میں بھی امریکہ اور ایران کے درمیان کئی نازک معاملات کو سلجھانے میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ کوششیں بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں جن کا مقصد خطے میں کسی بھی ممکنہ فوجی یا سیاسی کشیدگی کو ٹالنا ہے۔ واشنگتن اور تہران کے درمیان اگرچہ براہ راست بات چیت طویل عرصے سے معطل ہے، تاہم دوحہ کی جانب سے سفارتی سطح پر جاری ان کوششوں سے یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان برف پگھل سکتی ہے اور اہم عالمی امور بالخصوص توانائی اور سکیورٹی کے معاملات پر بات چیت کا راستہ کھل سکتا ہے۔
دوسری جانب، بین الاقوامی برادری بھی قطر کی اس مصالحتی مہم کو بڑی دلچسپی اور امید کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ خلیجی خطے کے امن کے لیے تمام ممالک اس بات کے متفقہ حامی ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ خطے کی معاشی اور سکیورٹی صورتحال کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ قطری حکام پرامید ہیں کہ فریقین لچک کا مظاہرہ کریں گے، جس سے آنے والے دنوں میں مثبت پیش رفت متوقع ہے۔