LIVE
Loading Breaking News...

وقت کا احساس اور عمر: سال جلدی کیوں گزرتے ہیں؟

News Image
ایک حالیہ سائنسی مطالعے نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ عمر میں اضافے کے ساتھ وقت کا احساس کیوں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق یادداشت اور تجربات کی بنیاد پر انسانی دماغ وقت کے گزرنے کی رفتار کو مختلف انداز میں ناپتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ بچپن میں گرمیوں کی ایک طویل چھٹی بھی سالوں پر محیط معلوم ہوتی تھی، جبکہ اب جوانی اور ادھیڑ عمر میں مہینے اور سال پل جھپکتے ہی گزر جاتے ہیں؟ وقت کے اس مبہم اور تیز رفتار احساس کے پیچھے کارفرما وجوہات کو جاننے کے لیے سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق کی ہے، جس نے اس دلچسپ موضوع پر روشنی ڈالی ہے۔ محققین کے مطابق وقت کے گزرنے کا احساس دراصل ہمارے دماغ کے کام کرنے کے انداز اور یادداشت کے ذخیرے سے جڑا ہوا ہے۔ جب انسان چھوٹا ہوتا ہے تو اس کے پاس دنیا کو دیکھنے کے لیے ہر چیز نئی ہوتی ہے، اور دماغ ہر نئے تجربے کو تفصیلی طور پر محفوظ کرتا ہے۔ اس کے برعکس، جیسے جیسے انسان بڑا ہوتا جاتا ہے، اس کی زندگی میں معمولات اور دہرائی جانے والی چیزیں بڑھ جاتی ہیں، جنہیں دماغ زیادہ اہمیت نہیں دیتا اور وہ یادداشت میں گہرائی سے نقش نہیں ہوتیں۔ اس نفسیاتی عمل کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گزرتا ہوا وقت ہمیں کم یادگار اور اس لیے زیادہ تیز محسوس ہوتا ہے۔ دماغ پرانی یادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ وقت کا موازنہ کرتا ہے، جس کی وجہ سے سال کے مہینے کم طویل لگتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس احساس کو تبدیل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انسان روزمرہ کے معمولات سے ہٹ کر نئے تجربات کرے اور سیکھنے کے عمل کو جاری رکھے۔ یہ تحقیق نہ صرف نفسیاتی بلکہ انسانی شعور کے کئی پیچیدہ رازوں کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔ اگرچہ ہم وقت کی رفتار کو گھڑی کے کانٹوں کے مطابق نہیں بدل سکتے، لیکن اپنے ذہن کو نئے چیلنجز دے کر وقت کے احساس کو کچھ حد تک طویل اور معنی خیز ضرور بنا سکتے ہیں۔