LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد: آٹھ ماہ میں بچوں پر تشدد اور جنسی استحصال کے 77 کیسز رپورٹ

News Image
اسلام آباد میں رواں سال کے پہلے آٹھ مہینوں کے دوران بچوں کے جنسی استحصال اور تشدد کے کل 77 واقعات درج کیے گئے ہیں۔ اس تشویشناک صورتحال نے بچوں کے حقوق کے تحفظ پر کام کرنے والے اداروں اور والدین میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
اسلام آباد میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے جہاں رواں سال کے پہلے آٹھ مہینوں کے دوران بچوں کے جنسی استحصال اور تشدد کے مجموعی طور پر 77 واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں۔ ان اعداد و شمار نے دارالحکومت میں بچوں کی حفاظت اور ان کے بنیادی حقوق کے نفاذ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سول سوسائٹی اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان تمام واقعات میں بچوں کے ساتھ ہونے والے تشدد اور جنسی استحصال کی مختلف نوعیتیں سامنے آئیں جن کی تحقیقات متعلقہ اداروں کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے جرائم کا معاشرے میں بڑھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر قانون سازی اور اس پر سختی سے عمل درآمد کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، تعلیمی اداروں اور گھروں کی سطح پر بچوں کو آگاہی فراہم کرنا بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے تاکہ وہ ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچ سکیں۔ دوسری جانب، متعلقہ حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے مقدمات میں فوری کارروائی کریں اور متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ بچوں کے حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ معاشرتی بیداری کے بغیر اس ناسور کا خاتمہ ناممکن ہے، اس لیے والدین، اساتذہ اور میڈیا کو مل کر ایک مؤثر مہم چلانی چاہیے تاکہ معصوم بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے اور مجرموں کو کٹہرے میں لایا جا سکے۔