Business
جاپان میں شرح سود میں اضافہ اور معاشی اثرات
جاپان کے مرکزی بینک نے شرح سود کو ایک فیصد سے بڑھا کر ایک اعشاریہ پچیس فیصد کر دیا ہے جو اکتیس سال کی بلند ترین سطح ہے۔ اس طویل المدتی معاشی تبدیلی سے عام شہریوں اور کاروبار کے لیے قرضے مہنگے ہو گئے ہیں۔
بینک آف جاپان نے اپنی مالیاتی پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے شرح سود میں مزید اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد قرضوں کی لاگت گزشتہ اکتیس برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اٹھارہ ستمبر کو سامنے آنے والے اس فیصلے کے تحت پالیسی ریٹ کو ایک فیصد سے بڑھا کر ایک اعشاریہ پچیس فیصد کر دیا گیا ہے۔ مرکزی بینک کے اس اقدام کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی مسلسل مہنگائی کو قابو میں لانا اور مالیاتی وسعت کے خدشات سے نمٹنا ہے۔ تاہم، اس سختی کے نتیجے میں جاپانی معیشت کے مختلف شعبوں بالخصوص عام شہریوں اور کاروباری اداروں پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ شرح سود میں اس اضافے سے گھریلو صارفین کے لیے رہائشی اور دیگر قرضوں کی اقساط مہنگی ہو گئی ہیں، جس سے ان کی ماہانہ بچت اور خرچ کرنے کی صلاحیت محدود ہو رہی ہے۔ دوسری جانب، تجارتی اور صنعتی شعبے کو بھی اپنے کاروباری توسیعی منصوبوں کے لیے اب زیادہ شرح سود پر قرضے حاصل کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے ان کے منافع کے حاشیے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان جو طویل عرصے تک کم یا منفی شرح سود کی پالیسی پر گامزن رہا ہے، اب ایک بالکل نئے معاشی دور میں داخل ہو رہا ہے۔ اگرچہ مرکزی بینک کا یہ فیصلہ مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے، لیکن اس کے قلیل مدتی اثرات کے طور پر عوام اور چھوٹے کاروباری طبقے کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت اور مرکزی بینک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ معیشت کا استحکام بھی برقرار رہے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔