Technology
کیلیفورنیا یلپ لا مقدمہ - Scott v. Ulta کا فیصلہ
کیلیفورنیا کے متنازعہ 'یلپ لا' کے تحت دائر کیے جانے والے ایک اور اجتماعی مقدمے کو عدالت نے مسترد کر دیا۔ اس قانون کا مقصد صارفین کو کاروباری اداروں کے خلاف جائز تبصرے کرنے کی آزادی فراہم کرنا ہے۔
کیلیفورنیا میں صارفین کے جائز تبصروں اور آراء کو محدود کرنے والی پابندیوں کے خلاف بنائے گئے متنازعہ قانون، جسے عام طور پر 'یلپ لا' کہا جاتا ہے، کے غلط استعمال کا سلسلہ جاری ہے۔ حال ہی میں اس قانون کے تحت دائر کیا جانے والا ایک اور بڑا اجتماعی مقدمہ عدالت میں ناکام ہو گیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس مقدمے کا نتیجہ بھی ان پچھلی کوششوں کی طرح نکلا جن کا مقصد کاروباری اداروں کو فائدہ پہنچانا یا قانونی عمل کا غلط استعمال کرنا تھا۔ سول کوڈ 1670.8 کے تحت کیلیفورنیا حکومت نے ان تمام معاہدوں کی شقوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے جو صارفین کو کسی کاروبار یا مصنوعات کے بارے میں منفی یا مثبت تبصرہ کرنے سے روکتی ہیں۔
اس قانون کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ عام خریدار اور صارف بغیر کسی خوف کے اپنی رائے کا اظہار کر سکیں اور مارکیٹ میں شفافیت برقرار رہے۔ تاہم، بعض فریقین نے اس قانون کو اپنے مفادات کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی ہے، جس کے تحت بڑے پیمانے پر مقدمات دائر کیے جا رہے ہیں۔ تازہ ترین معاملے 'Scott v. Ulta' میں بھی مدعی کی جانب سے اسی قانون کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا تھا جسے عدالت نے ناکافی اور بے بنیاد قرار دے کر خارج کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مقدمات کا مقصد اکثر سستی شہرت حاصل کرنا یا دباؤ ڈال کر مالی فوائد حاصل کرنا ہوتا ہے۔
عدالتی فیصلوں کے بعد یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ عدالتیں قانون کے اس نوعیت کے غلط استعمال کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس فیصلے سے ان تمام کاروباری اداروں کو بھی ایک واضح پیغام ملا ہے جو صارفین کی آزادی سلب کرنے کے لیے معاہدوں میں مبہم شقیں شامل کرتے ہیں۔ صارفین کے حقوق کے حامی اداروں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے عوام کی فتح قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس سے مستقبل میں اس قسم کے بے بنیاد مقدمات کی حوصلہ شکنی ہوگی اور صارفین بلا جھجھک اپنی رائے کا اظہار جاری رکھ سکیں گے۔