LIVE
Loading Breaking News...

اوبر پر چالیس ملین ڈالر جرمانہ، حادثے کی ذمہ داری عائد

News Image
جنوبی کیلیفورنیا میں پیش آنے والے ایک افسوسناک سڑک حادثے میں اوبر ڈرائیور کی غفلت پر ثالث نے کمپنی کو بالواسطہ طور پر ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ثالثی فیصلے میں متاثرہ خاندان کے حق میں چالیس ملین ڈالر ہرجانے کا حکم دیا گیا ہے۔
جنوبی کیلیفورنیا میں پیش آنے والے ایک المناک ٹریفک حادثے کے معاملے میں ثالثی عدالت نے مشہور رائڈ ہেইলিং کمپنی اوبر کو ایک ڈرائیور کی غفلت کا بالواسطہ ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اس قانونی کارروائی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والی تیئیس سالہ خاتون کے والدین کو چالیس ملین ڈالر کا بڑا ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس طویل بحث کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس میں اوبر کی جانب سے ہمیشہ یہ مؤقف اپنایا جاتا رہا ہے کہ وہ محض ایک ٹیکنالوجی پلیٹ فارم ہے اور براہ راست ٹرانسپورٹیشن سروس فراہم کرنے والی کمپنی نہیں ہے۔ ثالثی کے اس حکم نے اوبر کے اس دفاعی بیانیے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ حادثے کی تفصیلات کے مطابق تیئیس سالہ متاثرہ خاتون کا اوبر ڈرائیور شاہراہ کے کنارے گاڑی روک کر کھڑا ہوا تھا کہ اسی دوران ایک اور گاڑی نے انہیں ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں نوجوان خاتون کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی۔ متاثرہ خاندان نے اوبر اور ڈرائیور دونوں کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا جس کے بعد معاملہ ثالثی کے لیے آگے بڑھایا گیا۔ ثالث نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ اوبر خود کو روایتی کار سروس کے طور پر رجسٹر نہیں کرتی تاہم مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرنے کے عمل میں اس کا عمل دخل اتنا زیادہ ہے کہ وہ اپنے ڈرائیورز کی غفلت کے نتائج سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد ٹیکنالوجی پر مبنی دیگر گگ اکانومی کمپنیوں کے لیے بھی اپنے کام کے طریقوں پر نظرثانی کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا کہ آیا اوبر اور دیگر ایسی ڈیجیٹل ایپس اپنے پلیٹ فارم پر کام کرنے والے ورکرز کے اقدامات کی قانونی ذمہ داری سے بچ سکتی ہیں یا نہیں۔ اوبر کی جانب سے تاحال اس فیصلے پر کوئی حتمی اور تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن انڈسٹری کے ماہرین اسے ایک تاریخی قانونی نظیر قرار دے رہے ہیں۔