Business
بی این وائی کارپوریشن کی ترقی: کراس سیلنگ اور اے آئی کی اہمیت
بینک آف نیویارک میلن کارپوریشن اپنے نئے ترقیاتی مرحلے کا آغاز کر رہا ہے جس کا بنیادی محور کراس سیلنگ اور نامیاتی توسیع ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت میں بڑی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
بینک آف نیویارک میلن کارپوریشن (BNY) نے اپنے کاروباری آپریشنز کو وسعت دینے اور مستقبل کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کے مطابق، ادارہ آنے والے وقت میں نامیاتی توسیع اور مختلف مالیاتی خدمات کی باہم فروخت یعنی کراس سیلنگ پر خصوصی توجہ مرکوز کرے گا۔ اس روڈ میپ کا مقصد نہ صرف گاہکوں کو بہتر اور مربوط خدمات فراہم کرنا ہے بلکہ بینک کی آمدنی کے ذرائع کو بھی مستحکم بنانا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت موجودہ کلائنٹس کو بینک کی دیگر مصنوعات اور خدمات سے روشناس کرایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ کاروباری فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ اس تمام عمل کو تیز اور مؤثر بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے نظام کو کلیدی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ادارے کا ماننا ہے کہ اے آئی کی مدد سے نہ صرف ڈیٹا کا تجزیہ زیادہ درستگی سے ہوگا بلکہ گاہکوں کی ضروریات کو پہلے سے سمجھ کر انہیں بروقت مالیاتی حل فراہم کیے جا سکیں گے۔ بینک کی جانب سے اس شعبے میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے طویل المدتی بنیادوں پر پیداواری صلاحیت میں اضافہ متوقع ہے۔ مالیاتی منڈیوں کے تجزیہ کار بھی بی این وائی کے اس قدم کو انتہائی مثبت قرار دے رہے ہیں کیونکہ جدید دور میں ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ ہی مالیاتی اداروں کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اس نئی حکمت عملی کے نفاذ سے بینک نہ صرف اپنے حصص یافتگان کے لیے منافع میں اضافہ کرے گا بلکہ عالمی مالیاتی منڈی میں اپنی مسابقتی پوزیشن کو بھی مزید مستحکم کرے گا۔ ادارے کی انتظامیہ پرامید ہے کہ کراس سیلنگ اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج سے ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے اور بینک آنے والے برسوں میں ایک نئے مالیاتی معیار کے طور پر ابھرے گا۔