LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب پر حوثی حملہ: تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

News Image
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض اور اہم تنصیبات پر میزائل حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کے دام بڑھ گئے ہیں۔ دھماکوں اور حملوں کے بعد سکیورٹی کے خدشات بڑھنے کی وجہ سے توانائی کی سپلائی کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اس وقت تیزی ریکارڈ کی گئی جب یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور اہم تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں کے بعد ریاض ائیرپورٹ کے قریب دھواں اور شعلے دیکھے گئے، جس سے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ریاض میں حساس مقامات اور یانبو میں واقع آرامکو کی تنصیبات کو کامیابی سے ہدف بنایا ہے۔ اس کشیدگی اور حملوں کے بعد توانائی کی عالمی سپلائی کے تسلسل پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں، کیونکہ سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات براہ راست تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے خریداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور قیمتوں میں اوپر کی طرف رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، اس حملے کے نتیجے میں توانائی منڈیوں میں فوری ردعمل سامنے آیا اور تجارتی سیشنز کے دوران تیل کے نرخوں میں اضافہ درج ہوا۔ اگرچہ سعودی حکام کی جانب سے نقصان کی مکمل تفصیلات اور دفاعی کارروائیوں کے بارے میں حتمی بیان آنا باقی ہے، تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر خطے کے اہم انفراسٹرکچر کی سکیورٹی اور توانائی کی قیمتوں کے استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس طرح کے حملے جاری رہے تو عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تیل کی منڈیوں میں اس نوعیت کی ہلچل اکثر رس رسد میں تعطل کے خدشات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، اور حالیہ حملے نے عالمی سرمایہ کاروں کو خبردار کر دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاسی صورتحال بدستور نازک ہے۔