Health
ڈیمنشیا کی دیکھ بھال کے لیے سمارٹ بیڈز اور سینسرز کا استعمال
برطانیہ میں ایک جوڑا ڈیمنشیا کے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا تجربہ کر رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں جرابوں، بستر اور پورے گھر میں نصب سینسرز شامل ہیں۔
جدید دور میں ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے کی طرح طبی شعبے میں بھی انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اب ڈیمنشیا یا یادداشت کھونے کے مرض میں مبتلا افراد کی دیکھ بھال کے لیے بھی نت نئی ایجادات سامنے آ رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں جیوتی پٹیل اور ان کے شوہر بھارت پٹیل ایک ایسے نئے نظام کا تجربہ کر رہے ہیں جو ڈیمنشیا کے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی زندگیاں آسان بنا سکتا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کا مقصد مریضوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور انہیں کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچانا ہے۔ اس تجربے کے تحت گھر کے مختلف حصوں میں خصوصی سینسرز نصب کیے گئے ہیں تاکہ مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان جدید آلات میں خاص قسم کے سمارٹ بیڈز اور جرابوں میں لگائے جانے والے موشن سینسرز شامل ہیں۔ بستر میں نصب سمارٹ سینسرز اس بات کا اندازہ لگاتے ہیں کہ آیا مریض بستر پر موجود ہے یا اٹھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ گھر کے اطراف میں اور استعمال کی جانے والی اشیاء میں بھی سینسرز لگائے گئے ہیں جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں دیکھ بھال کرنے والے افراد کو فوری طور پر مطلع کر سکتے ہیں۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ڈیمنشیا کے مریضوں کو زیادہ خود مختار زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتی ہے جبکہ ان کے پیاروں کی پریشانی میں بھی کمی لاتی ہے۔ اس طرح کی سمارٹ ٹیکنالوجی مستقبل میں صحت کے شعبے میں سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، جو نہ صرف گھروں میں بلکہ اسپیشلائزڈ کیئر ہومز میں بھی مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار کو یکسر بدل کر رکھ دے گی۔ ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ یادداشت کے مسائل کا شکار افراد کے لیے ایسی جدید سہولیات کو عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔