LIVE
Loading Breaking News...

شری لنکا میں تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی قبر دریافت

News Image
شری لنکا کے شمالی حصے میں تعمیراتی کام کے دوران مزدوروں نے ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی قبر دریافت کی ہے۔ اس واقعے نے طویل خانہ جنگی کے دوران لاپتہ ہونے والے افراد کے زخموں کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے۔
شری لنکا کے شمالی علاقے میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب مزدوروں نے اتفاقیہ طور پر ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی قبر کا سراغ لگا لیا۔ ابتدائی کھدائی کے دوران جب مزدوروں کو انسانی ڈھانچے اور ہڈیاں ملیں تو حکام کو فوری طور پر مطلع کیا گیا۔ ماہرین اور پولیس کی نگرانی میں جب اس مقام پر مزید کھدائی کی گئی تو وہاں سے مجموعی طور پر 572 افراد کی انسانی باقیات برآمد ہوئیں۔ اس ہولناک انکشاف نے ملک کی طویل اور خونریز خانہ جنگی کے تاریک دور کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے دوران جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے ہزاروں افراد کے لواحقین آج بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ مقامی حکام اور فارنسک ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ سمیت تمام ممکنہ سائنسی طریقے بروئے کار لائے جائیں گے۔ اس عمل سے یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ یہ افراد کون تھے اور انہیں کس تناظر میں اس بے دردی سے قتل کر کے دفن کیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس دریافت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔ شری لنکا کی خانہ جنگی، جو کہ دہائیوں تک جاری رہی، کے دوران بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالیوں کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ اس نئی دریافت نے ایک بار پھر ان زخموں کو تازہ کر دیا ہے جو طویل عرصے سے مندمل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ شری لنکا کے عوام اور دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں اب اس بات کی منتظر ہیں کہ حکومت اس واقعے پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور آیا لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو ان کے پیاروں کے بارے میں کوئی حتمی سچائی مل پاتی ہے یا نہیں۔