World
تہران میں فرانسیسی زبان کا مرکز بند، فرانس کا ایرانی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ
فرانسیسی حکومت نے تہران میں واقع اپنے زبان کے مرکز کی جبری بندش کے بعد ایرانی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ ادارہ سفارتی روایات کے مناخ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔
فرانسیسی وزارت خارجہ نے تہران میں فرانسیسی زبان کے تدریسی اور ثقافتی مرکز کی اچانک بندش کے بعد فرانس میں تعینات ایرانی سفیر کو طلب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے اور تہران کا یہ فیصلہ غیر منصفانہ ہے۔ پیرس میں اعلیٰ حکام اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس معاملے پر ایران کے ساتھ سخت سفارتی احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے۔دوسری جانب، ایرانی حکام نے اس مرکز کی بندش کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ ادارہ ملک کے اندر ایسے 'غیر قانونی افعال' میں ملوث تھا جو بین الاقوامی اور سفارتی کنونشنز کی صریح خلاف ورزی تھے۔ تہران کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی ادارے کو ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور ایران اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات اٹھانے کا پورا حق رکھتا ہے۔ یہ بندش دونوں ممالک کے مابین ثقافتی اور سیاسی تعلقات میں ایک نیا بحران لے کر آئی ہے۔یاد رہے کہ حالیہ برسوں کے دوران مختلف بین الاقوامی اور خطے کے امور پر ایران اور مغربی ممالک بالخصوص فرانس کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ ثقافتی مراکز کا بند کیا جانا یا ان کے خلاف کارروائیاں کرنا اس کشیدگی کی ایک نئی کڑی تصور کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر ہونے والی ان ملاقاتوں سے یہ واضح ہوگا کہ آیا دونوں ممالک اس تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا سفارتی تعلقات مزید کشیدہ ہوتے ہیں۔