World
طالبان حکومت کی پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور تعاون کی خواہش
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاهد نے کہا ہے کہ کابل حکومت پاکستان کے ساتھ دوطرفہ مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون سے خطے میں استحکام لانے میں مدد ملے گی۔
افغان طالبان حکومت نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتی ہے اور تمام اہم امور پر بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے کی خواہاں ہے۔ کابل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغان حکومت چاہتی ہے کہ باہمی کوششوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان موجود تمام مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان مسلسل رابطہ خطے کے مفاد میں ہے۔
ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور خطے میں امن کے قیام کے لیے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تاریخی اور ثقافتی رشتے ہیں جنہیں مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں اطراف سے رابطے اور سفارتی کوششیں اس بات کی ضمانت ہیں کہ افہام و تفہیم کے ذریعے چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان اور طالبان انتظامیہ کے درمیان سیکیورٹی اور سرحدی امور پر ماضی میں کشیدگی بھی دیکھی گئی ہے جہاں اسلام آباد کی طرف سے افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم، ان چیلنجز کے باوجود دونوں جانب سے سفارتی ذرائع کو کھلا رکھنے اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعمیری مذاکرات ہی خطے میں دیرپا امن اور اقتصادی استحکام کی ضمانت بن سکتے ہیں۔