Politics
ایڈ ملی بینڈ کی چین پالیسی برطانوی قومی سلامتی کے لیے خطرہ
برطانوی سیاست دان ایڈ ملی بینڈ کی جانب سے نیٹ زیرو کے حصول اور چین پر انحصار کی پالیسی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل مستقبل میں برطانوی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
برطانوی سیاست میں ان دنوں نیٹ زیرو کے ہدف اور چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے گرما گرم بحث جاری ہے۔ تجزیہ کار آئین ولیمز کے مطابق، ایڈ ملی بینڈ کی جانب سے بیجنگ پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے کی پالیسی کے ملک کی قومی سلامتی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر چین کے ساتھ توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، برطانوی وزارتِ توانائی کی جانب سے اس قسم کے اقدامات کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ توانائی کے شعبے میں چین پر دارومدار برطانوی معیشت کو طویل مدت میں کمزور کر سکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں برطانوی حکومتوں کی طرف سے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے نیٹ زیرو کے اہداف پر تیزی سے عمل درآمد کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم، ان اہداف کے حصول کے لیے ضروری خام مال اور ٹیکنالوجی کی فراہمی کے لیے بیجنگ پر بہت زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایڈ ملی بینڈ اس مفادات کے ٹکراؤ کو حل کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں جہاں ایک طرف سبز توانائی کی ضرورت ہے تو دوسری طرف ملکی سلامتی کو درپیش خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ چین پر اس حد تک انحصار مستقبل میں برطانیہ کے لیے سفارتی اور اسٹریٹجک مجبوریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس صورتحال میں یہ انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ اور پالیسی ساز اس بات کا از سر نو جائزہ لیں کہ آیا یہ معاہدے ملک کے مفاد میں ہیں یا نہیں۔ عوام اور قانون سازوں کی جانب سے بھی اب اس بات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ توانائی کے تحفظ کو قومی سلامتی پر ترجیح دی جائے تاکہ کسی بھی بیرونی دباؤ سے بچا جا سکے۔