Technology
مچھلی کی اموات روکنے کے لیے اے آئی ڈیوائس متعارف
نائیجیریا کی ایک فارماسسٹ اکاچی بینیتا نے تالاب کے پانی میں خطرناک تبدیلیوں کا پتہ لگانے اور مچھلیوں کی اموات کو کم کرنے کے لیے ایک جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی آلہ تیار کیا ہے۔ اس پروٹوٹائپ کا نام ایکوامانی رکھا گیا ہے جو فش فارمرز کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔
نائیجیریا سے تعلق رکھنے والی ایک ہنر مند فارماسسٹ اکاچی بینیتا نے فش فارمنگ کے شعبے میں ایک اہم کارنامہ انجام دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی پر مبنی ایک جدید آلہ تیار کیا ہے۔ اس ڈیوائس کا بنیادی مقصد مچھلیوں کے تالابوں میں پانی کے حالات اور ان میں ہونے والی خطرناک تبدیلیوں کا بروقت پتہ لگانا ہے تاکہ مچھلیوں کی بڑی تعداد میں ہونے والی اموات کو روکا جا سکے۔ اس ایجاد سے دنیا بھر کے مچھلی پال کسانوں کو زبردست ریلیف ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
اس جدید پروٹوٹائپ کو ایکوامانی (Aquamanne) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ڈیوائس پانی کے درجہ حرارت، پی ایچ لیول اور آکسیجن کی مقدار جیسی اہم خصوصیات پر مسلسل نظر رکھتی ہے۔ جیسے ہی پانی کے معیار میں کوئی ایسی تبدیلی رونما ہوتی ہے جو مچھلیوں کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، یہ آلہ فوری طور پر کسانوں کو خبردار کر دیتا ہے، جس کی مدد سے بروقت اقدامات اٹھانا ممکن ہو جاتا ہے۔
فش فارمنگ کے کاروبار میں پانی کے خراب حالات کی وجہ سے کسانوں کو اکثر شدید مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اکاچی بینیتا کی یہ کوشش نہ صرف اس صنعت کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرائے گی بلکہ خوراک کے تحفظ اور معاشی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی سستی اور قابلِ رسائی ٹیکنالوجی چھوٹے پیمانے کے کسانوں کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ اس پروٹوٹائپ کی کامیابی کے بعد اسے تجارتی پیمانے پر تیار کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ فش فارمرز اس سے مستفید ہو سکیں۔ نائیجیریا سمیت دیگر افریقی ممالک میں اس ایجاد کو بے حد سراہا جا رہا ہے اور اسے نوجوان موجدوں کے لیے ایک شاندار مثال قرار دیا جا رہا ہے۔