World
روایتی معالج کی غلطی سے نائجیریئن خاتون کی ٹانگ ضائع
نائجیریئن بیکر تائیوو اদেরایو نے بچپن کا ایک ہولناک واقعہ شیئر کیا ہے جس میں روایتی معالج کی جانب سے ٹانگ چھت کے پنکھے سے باندھنے پر انہیں معذوری کا سامنا کرنا پڑا۔ اس خطرناک علاج کے نتیجے میں ٹانگ کا انفیکشن اس حد تک بڑھ گیا کہ ڈاکٹروں کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا کہ وہ ٹانگ کاٹ دیں۔
نائجیریا سے تعلق رکھنے والی ایک بیکر تائیوو اদেরایو نے اپنی زندگی کے ایک انتہائی تکلیف دہ اور دردناک واقعے سے پردہ اٹھایا ہے، جس نے روایتی علاج کے طریقوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بچپن میں پیش آنے والے اس حادثے نے ان کی پوری زندگی بدل کر رکھ دی اور انہیں معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا۔ تائیوو کے مطابق، بچپن میں ان کی ٹانگ پر چوٹ آئی تھی جس کے علاج کے لیے اہل خانہ انہیں ایک روایتی ہڈیوں کے جوڑنے والے کے پاس لے گئے تھے۔ اس نام نہاد معالج نے علاج کے دوران نہ صرف غفلت برتی بلکہ بچی کی زخمی ٹانگ کو مبینہ طور پر چھت کے پنکھے کے ساتھ باندھ دیا۔ اس غیر سائنسی اور وحشیانہ عمل کے نتیجے میں ٹانگ کا خون کا بہاؤ رک گیا اور صورتحال شدید بگڑ گئی۔ کچھ ہی عرصے میں ٹانگ میں خطرناک انفیکشن پھیل گیا اور ٹشو مرنے لگے، جس کی وجہ سے انفیکشن پورے جسم میں پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ جب حالت زیادہ خراب ہوئی تو انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے جان بچانے کے لیے متاثرہ ٹانگ کاٹنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ پایا۔ تائیوو کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ ان کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا اور انہیں کم عمری میں ہی اس جسمانی نقصان کے ساتھ جینا پڑا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر روایتی اور غیر تربیت یافتہ معالجین کے طریقوں پر شدید تنقید کو جنم دیا ہے، اور ماہرین صحت نے عوامتب سے اپیل کی ہے کہ ہڈیوں کی چوٹوں کے علاج کے لیے ہمیشہ مستند اور کوالیفائیڈ ڈاکٹروں سے رجوع کریں تاکہ ایسے المیوں سے بچا جا سکے۔