World
ایڈ ملی بینڈ پر چین کو خوش کرنے کا الزام اور برطانوی سلامتی کے خدشات
برطانوی حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنے 'نیٹ زیرو' اہداف حاصل کرنے کے لیے سولر پینلز کی فراہمی میں چین پر حد سے زیادہ انحصار کر رہی ہے۔ اس انحصار کی وجہ سے ملک کی سلامتی کو مبینہ طور پر خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
برطانیہ کے نمایاں سیاسی حلقوں اور سیکیورٹی ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر توانائی ایڈ ملی بینڈ اپنے طے شدہ 'نیٹ زیرو' اہداف کے حصول کے لیے مبینہ طور پر چین کے سامنے جھک رہے ہیں۔ یہ صورتحال برطانیہ کی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے کیونکہ برطانوی سولر انرجی کا ڈھانچہ مکمل طور پر چینی سپلائی چین پر منحصر ہو چکا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، اس حد سے زیادہ انحصار کی وجہ سے مستقبل میں ملک کی اہم توانائی کی تنصیبات بیرونی دباؤ یا سائبر خطرات کی زد میں آ سکتی ہیں۔
حالیہ دنوں میں برطانوی وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے اندر بھی اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ حکومت ماحول دوست توانائی کے حصول کی جلدی میں ملک کی طویل المدتی اسٹریٹجک خودمختاری کو نظرانداز کر رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ چین سےے سستے سولر پینلز کی درآمد وقتی طور پر تو اہداف حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن یہ حکمت عملی ملک کو جغرافیائی سیاسی طور پر انتہائی کمزور پوزیشن میں دھکیل رہی ہے۔
دوسری جانب، حکومت کی طرف سے ان تمام الزامات کے دفاع میں یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران سے نمٹنے اور مقررہ مدت میں کاربن کے اخراج کو صفر تک لانے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سپلائی چین کا تنوع برقرار رکھنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی ایک ملک پر انحصار کو معقول حد تک کم کیا جا سکے۔
تاہم، حزب اختلاف اور سلامتی کے امور کے ماہرین اس وضاحت سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت فوری طور پر اپنی توانائی کی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر برطانوی معیشت اور توانائی کے شعبے کو بیرونی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے تو مقامی سطح پر متبادل ذرائع اور پیداوار کو فروغ دینا اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔