Education
اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال اور تعلیمی فیصلے
مصنوعی ذہانت کی تعلیمی اداروں میں آمد کے بعد ایک بار پھر پرانی بحث شروع ہو گئی ہے کہ تعلیمی فیصلے اساتذہ کی مشاورت سے کیے جائیں یا ٹیکنالوجی فروخت کرنے والوں کی ترغیب پر۔ نیا تعلیمی نظام طلباء کی فکری صلاحیتوں پر اثرانداز ہو رہا ہے جس کا سنجیدہ جائزہ لینا ضروری ہے۔
جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی منظر عام پر آتی ہے تو وہ تیزی سے تعلیمی نظام میں اپنی جگہ بن لیتی ہے۔ اس عمل کے دوران ہمیں ہمیشہ ایک ہی فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ آیا ہم ان لوگوں کی بات سنیں جو ہمیں یہ ٹیکنالوجی بیچنا چاہتے ہیں یا پھر ان اساتذہ کی رائے پر عمل کریں جو زمینی حقائق سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ تاریخی طور پر ہم نے ڈیجیٹل بورڈز، کمپیوٹر لیبز اور آن لائن لرننگ کے نام پر کئی بار یہ تجربات کیے ہیں اور ہر بار تعلیمی میدان میں کارپوریٹ مفادات کو ترجیح دی گئی ہے۔ آج جب مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا دور ہے تو اسکولوں میں اس کا استعمال ایک بار پھر اسی پرانے سوال کو جنم دے رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کمپنیاں اور مارکیٹرز اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت طلباء کی سیکھنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتی ہے اور اساتذہ کا بوجھ کم کر سکتی ہے۔ تاہم، اس کے برعکس تجربہ کار اساتذہ کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ آٹومیشن طلباء میں خود سوچنے کی صلاحیت اور مسائل کو حل کرنے کے ہنر کو کمزور کر رہی ہے۔ جب ہر سوال کا جواب سیکنڈوں میں ایک مشین کے ذریعے مل جائے گا تو طالبعلم کی تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کی آبیاری کیسے ہوگی؟ یہ ایک ایسا بنیادی سوال ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیمی ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کو ایک مددگار اوزار کے طور پر استعمال ہونا چاہیے نہ کہ اساتذہ کے متبادل کے طور پر۔
حالیہ برسوں میں اسکولوں کے اندر ڈیجیٹل سسٹمز کے نام پر جو سرمایہ کاری کی گئی ہے، اس کے ثمرات پر بھی اب سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اساتذہ کی تنخواہوں اور بنیادی سہولتوں میں بہتری لانے کے بجائے سارا بجٹ مہنگے سافٹ وئیرز اور اے آئی سسٹمز کی خریداری پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ تعلیمی پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ سیلز مینوں کے دعوؤں سے باہر نکلیں اور ان اساتذہ کی آواز سنیں جو روزانہ کی بنیاد پر کلاس رومز میں طلباء کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
آخر کار، تعلیم صرف معلومات کا رٹا لگانے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ کردار سازی اور اخلاقی تربیت کا عمل بھی ہے۔ مصنوعی ذہانت ڈیٹا کا تجزیہ تو کر سکتی ہے لیکن وہ انسانی ہمدردی، حوصلہ افزائی اور استاد کی شفقت کا متبادل کبھی نہیں بن سکتی۔ اگر ہم ایک متوازن اور صحت مند تعلیمی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں ٹیکنالوجی اور انسانی عقل کے درمیان ایک واضح حد قائم کرنا ہو گی تاکہ ہمارے بچے صرف مشین کے تابع نہ بن جائیں بلکہ ایک باشعور انسان بن سکیں۔