LIVE
Loading Breaking News...

انتھونی البانیز کا ایپل ہیڈ کوارٹر کا دورہ اور اے آئی پالیسی پر تبادلہ خیال

News Image
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے ایپل کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور خبردار کیا کہ ملک اے آئی کی دوڑ میں سائیڈ لائن پر نہیں بیٹھ سکتا۔ انہوں نے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے کاپی رائٹ قوانین میں تبدیلی کا امکان بھی ظاہر کیا۔
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے ٹیکنالوجی کے عالمی مرکز ایپل ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اس کے مستقبل کے حوالے سے اہم بیانات دیے۔ وزیراعظم البانیز نے اس موقع پر خبردار کیا کہ آسٹریلیا اس عالمی تکنیکی دوڑ میں تماشائی بن کر سائیڈ لائن پر نہیں بیٹھ سکتا بلکہ ملک کو اس ٹیکنالوجی کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آسٹریلوی حکومت کو مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش قدمی کرنا ہوگی تاکہ ملک میں جدید ترین ٹیکنالوجی کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا کہ عالمی ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں کو آسٹریلیا کی طرف سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے کی خاطر کاپی رائٹ قوانین میں تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ موجودہ قوانین میں وقت اور ٹیکنالوجی کے تقاضوں کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر ترمیم کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ عالمی سرمایہ کار یہاں کا رخ کریں۔ حکومت کی یہ سوچ اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ ملک کو ڈیجیٹل دور میں پیچھے نہیں دیکھنا چاہتی اور اس کے لیے تمام ممکنہ حکومتی اور قانونی اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ ماہرین کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ اور اے آئی کے حوالے سے ان کے بیانات آسٹریلیا کی مستقبل کی معیشت اور ٹیکنالوجی کی پالیسیوں میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کا شعبہ دنیا بھر میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اس میں مسابقت بڑھتی جا رہی ہے۔ آسٹریلوی حکومت چاہتی ہے کہ ملکی سطح پر اس شعبے کو فروغ دیا جائے تاکہ نہ صرف معیشت کو استحکام ملے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں۔ انتھونی البانیز کا یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ آسٹریلیا بین الاقوامی سطح پر ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک نمایاں اور مسابقتی کھلاڑی کے طور پر ابھرنا چاہتا ہے۔