Technology
امریکہ اور چین مصنوعی ذہانت کے تنازع پر معاہدہ کریں: وزیراعظم
آسٹریلوی وزیراعظم نے امریکہ اور چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے شعبے کی وارننگز پر توجہ دیں اور مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے معاہدہ کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قدم پوری انسانیت کے مفاد میں اٹھایا جانا انتہائی ضروری ہے۔
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے امریکہ اور چین پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے ماہرین اور انڈسٹری کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) کے خطرات کے پیش نظر جاری کردہ وارننگز پر سنجیدگی سے غور کریں۔ انہوں نے دونوں سپر پاورز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانیت کے مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اے آئی کی دوڑ میں ضابطہ کار طے کرنے کے لیے کوئی باقاعدہ معاہدہ کریں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیکنالوجی کے میدان بالخصوص مصنوعی ذہانت کے حوالے سے نئی پالیسیوں اور اقدامات پر تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر ماہرینِ تعلیم، سائنسدانوں اور تکنیکی ماہرین کی جانب سے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور چین کے مابین اے آئی کی یہ دوڑ دنیا کے لیے سلامتی کے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
انتھونی البانیز نے عالمی فورم پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو کسی ایک ملک کے غلبے یا تصادم کے لیے استعمال کرنے کے بجائے دنیا بھر کے فلاحی کاموں کے لیے بروئے کار لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وقت پر باضابطہ قوانین اور معاہدے طے نہ کیے گئے تو اس کے اثرات عالمی معیشت اور انسانی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ حالات میں امریکہ اور چین کے درمیان تکنیکی سرد جنگ کو روکنے کے لیے سفارتی سطح پر اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔ آسٹریلوی وزیراعظم کی یہ اپیل عالمی رہنماؤں کے لیے ایک اہم پیغام کی حیثیت رکھتی ہے تاکہ وہ مستقبل کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کر سکیں۔