LIVE
Loading Breaking News...

اسپیس ایکس خلائی اے آئی کا سستا منصوبہ اور غلط تخمینے کی حقیقت

News Image
خلائی مصنوعی ذہانت کے حوالے سے 160 ارب ڈالر فی گیگا واٹ کا تخمینہ سراسر غلط اور تکنیکی طور پر بے بنیاد ہے۔ اسپیس ایکس کا اصل منصوبہ اس سے کہیں زیادہ سستا اور ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہے۔
حال ہی میں خلائی مصنوعی ذہانت کے اخراجات کے حوالے سے گردش کرنے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خلائی مدار میں اے آئی کے قیام پر 160 ارب ڈالر فی گیگا واٹ لاگت آئے گی۔ تاہم ماہرین اور تجزیہ کاروں نے اس تخمینے کو انتہائی ناقص اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار موجودہ پرانی ٹیکنالوجی کو بنیاد بنا کر بنائے گئے ہیں اور اس میں اسپیس ایکس کے مستقبل کے حقیقی منصوبوں کو بالکل نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہ حساب کتاب نہ صرف غلط راکٹ کی کارکردگی پر مبنی ہے بلکہ اس میں طے شدہ سیٹلائٹ کے نظام کو بھی غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ اسپیس ایکس کا اصل منصوبہ اس تخمینے کے مقابلے میں انتہائی سستا اور کم لاگت والا ہے۔ کمپنی کے بانی اور دیگر اعلیٰ حکام کے مطابق، مدار میں مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر کو استوار کرنے کے لیے اصل لاگت ایک ارب ڈالر سے بھی کم رہنے کی توقع ہے۔ اس نمایاں فرق کی بڑی وجہ اسپیس ایکس کا انقلابی اسٹار شپ پروگرام ہے، جو خلائی سفر اور بھاری سامان کی ترسیل کے اخراجات کو ڈرامائی حد تک کم کر رہا ہے۔ موجودہ ٹیکنالوجی کے جمود کو توڑتے ہوئے، اسٹار شپ مستقبل میں خلاء میں بڑے پیمانے پر ہارڈ ویئر بھیجنے کا ایک ایسا نظام فراہم کر رہا ہے جو ماضی کے مقابلے میں انتہائی سستا ہے۔ اسپیس ایکس کی اس نئی حکمت عملی سے خلائی صنعت میں ایک نیا انقلاب برپا ہونے جا رہا ہے۔ جو لوگ خلائی اے آئی کو ناقابل یقین حد تک مہنگا سمجھ رہے تھے، وہ اب اس حقیقت کا اعتراف کر رہے ہیں کہ اسپیس ایکس کم خرچ اور پائیدار حل کے ساتھ اس میدان میں داخل ہو رہی ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی سے نہ صرف مصنوعی ذہانت کے شعبے کو وسعت ملے گی بلکہ خلائی تحقیق اور تجارتی سرگرمیوں کے دروازے بھی انتہائی کم لاگت میں کھل جائیں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں خلائی ٹیکنالوجی کے اخراجات میں مزید کمی واقع ہوگی اور اسپیس ایکس اس میدان میں سب سے آگے رہے گا۔