AI
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی اے آئی فورس بنانے کا اعلان اور اے آئی کے خدشات پر تبصرہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے تیزی سے فروغ پاتے ہوئے شعبے کے لیے ایک نئی 'اے آئی فورس' تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے ایک بار پھر اے آئی سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کو بے بنیاد اور فریب قرار دیا ہے۔
واشنگٹن (نیکسیورا نیوز اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کو منظم اور فروغ دینے کے لیے ایک نئی 'اے آئی فورس' قائم کریں گے۔ سیلیکون ویلی اور دیگر تکنیکی مراکز سے مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور اس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان یہ ایک اہم پالیسی بیان سامنے آیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار بھی کیا ہے کہ وہ اس شعبے کی بہتری کے لیے جلد ہی اہم تقرریاں کریں گے تاکہ امریکہ اس ٹیکنالوجی میں عالمی سطح پر سب سے آگے رہے۔
ایک طرف جہاں دنیا بھر کے ماہرینِ ارضیات، سائنسدان اور ٹیک رہنما مصنوعی ذہانت کے بے لگام استعمال سے لاحق ہونے والے خطرات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، وہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے روایتی انداز میں انتباہات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کو ایک بار پھر 'فریب' قرار دیا ہے، جس سے ماہرین کے درمیان ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ٹرمپ کا اصرار ہے کہ اے آئی کے خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور یہ انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت نہیں ہوگی جیسا کہ کچھ ناقدین دعویٰ کرتے ہیں۔
دوسری جانب، سلیکن ویلی کے بڑے تکنیکی اداروں اور سرمایہ کاروں نے اس اعلان پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ حلقے اس بات پر خوش ہیں کہ انتظامیہ اے آئی کی ترقی میں دلچسپی لے رہی ہے اور ایک مخصوص فورس کے قیام سے نئی راہیں کھل سکتی ہیں، جبکہ دیگر حلقے اس بات سے فکر مند ہیں کہ اے آئی کے خطرات کو نظر انداز کرنا طویل مدت میں خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی نئی 'اے آئی فورس' کے قیام سے امریکہ میں اس ٹیکنالوجی کی پالیسیوں اور ضوابط پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس مجوزہ 'اے آئی فورس' کو کیا شکل دیتے ہیں اور اس کے مقاصد اور اختیارات کیا ہوں گے۔ کیا یہ فورس صرف ترقی کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز کرے گی یا پھر اس کے دائرہ کار میں حفاظتی اقدامات اور ضابطہ بندی بھی شامل ہوگی؟ اس حوالے سے صنعت کے اندر اور باہر دونوں طرف سے گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل اب عالمی معیشت اور سلامتی کے لیے بنیادی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔