AI
ٹرمپ کا اے آئی فورس اور اے آئی زار مقرر کرنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کو سراہتے ہوئے ایک نئی 'اے آئی فورس' بنانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اس صنعت کو سست کرنے کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے کو تحفظ اور فروغ دینے کے لیے ایک خصوصی 'اے آئی فورس' قائم کریں گے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب عام عوام میں اس تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے خدشات اور تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، اور اس فورس کے ذریعے اس ٹیکنالوجی کے نفاذ اور سکیورٹی کے امور پر نظر رکھی جائے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی ایک 'اے آئی زار' بھی مقرر کریں گے جو اس تمام عمل کی نگرانی کرے گا۔ انہوں نے ان تمام مطالبات کو سختی سے مسترد کر دیا جن میں یہ کہا جا رہا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی صنعت کو ترقی کی رفتار ذرا سست کر دینی چاہیے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس صنعت کو محدود کرنے کے بجائے اسے مزید سراہا جائے گا اور اس کی تائید کی جائے گی تاکہ امریکہ اس میدان میں عالمی سطح پر سب سے آگے رہ سکے۔
اس موقع پر انہوں نے عدالتی نظام کا بھی ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ نئی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ قانون کے نفاذ کے اداروں کو بھی فعال رہنا ہوگا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ اقدام امریکی معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں انقلاب برپا کر سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ رازداری اور اخلاقی اقدار کے حوالے سے بحث بھی چھڑ گئی ہے۔
حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ امریکی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں پیچھے نہ رہیں اور جدید ترین ریسرچ جاری رکھیں۔ اے آئی فورس کا قیام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس سے ملکی دفاع، معیشت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید تقویت ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس نئے ادارے کے خدوخال اور اختیارات کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔