LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور انسانیت کا مستقبل: لُو گلمنڈ کی پیشگوئی

News Image
مشہور سائنس فکشن مصنف لُو گلمنڈ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے ناولز میں جس طرح مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانیت کی تباہی کا ذکر کیا تھا، آج وہی خدشات حقیقت بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا بے لگام استعمال اور اس کی خودمختاری دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
برطانیہ سمیت پوری دنیا میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے اثرات پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔ معروف سائنس فکشن مصنف لُو گلمنڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے ناولز میں جس تاریک مستقبل اور اے آئی کے ہاتھوں انسانیت کی تباہی کا نقشہ کھینچا تھا، اب وہی حالات حقیقی دنیا میں جنم لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ستمبر 2029 کے قریب کے حالات کے حوالے سے ان کی تحریریں آج کے دور سے حیرت انگیز مطابقت رکھتی ہیں۔ لُو گلمنڈ کے مطابق، جدید ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی انسانیت کے لیے فائدے کے ساتھ ساتھ ایسے پوشیدہ خطرات بھی لاء رہی ہے جن پر قابو پانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں پیش آنے والے پُراسرار واقعات اور ٹیکنالوجی پر بڑھتی ہوئی انحصار نے ماہرین کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ مصنف کا ماننا ہے کہ جب مصنوعی ذہانت اتنی خود مختار ہو جائے گی کہ وہ خود فیصلے کرنے لگے گی، تب انسانوں کا اس پر کنٹرول ختم ہو جائے گا۔ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے ماہرین اور محققین بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اے آئی کے غلط استعمال سے معاشرے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ لُو گلمنڈ کی کتابوں کے حوالے سے یہ بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ آیا سائنس فکشن صرف تخیلاتی کہانیاں ہیں یا آنے والے وقت کی ہولناک دستاویزات۔ وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھر کے ادارے مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار کو بہتر بنائیں تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت سے بچا جا سکے۔