LIVE
Loading Breaking News...

شمسی توانائی سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز: امریکی اسٹارٹ اپ کا انوکھا منصوبہ

News Image
ایک امریکی اسٹارٹ اپ نے ضائع ہونے والی شمسی توانائی کو براہ راست جی پی یو کے قابل ڈیٹا سینٹرز میں تبدیل کرنے کا منفرد منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے روایتی برسوں کے طویل انتظار کے بغیر محض چند ہفتوں میں نئے ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جا سکیں گے۔
امریکہ میں ایک جدید ترین اسٹارٹ اپ نے توانائی کے شعبے میں ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ضائع ہونے والی شمسی توانائی کو ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے لیے استعمال ہونے والے جی پی یو ڈیٹا سینٹرز میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس نئے منصوبے کے تحت روایتی طور پر ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر میں لگنے والے برسوں کے طویل وقت کو گھٹا کر محض چند ہفتوں تک لایا جا سکتا ہے، وہ بھی زیادہ پانی کے استعمال کے بغیر۔ جدید دور میں جہاں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پروسیسنگ کی مانگ میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، وہیں بجلی کی فراہمی اور کولنگ کے مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں یہ نئی ٹیکنالوجی صنعت کے لیے ایک بڑی پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔ اسٹارٹ اپ کی جانب سے تیار کردہ اس نظام کے تحت کمپیوٹنگ کے آلات کو براہ راست فعال سولر جنریشن سائٹس کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ عام طور پر گرڈ کی صلاحیت یا ترسیل کے مسائل کی وجہ سے شمسی توانائی کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے جسے 'کرٹیلمੈਂٹ' کہا جاتا ہے۔ یہ نیا نظام اسی ضائع ہونے والی توانائی کو حاصل کرتا ہے اور اسے جی پی یو کلسٹرز کو چلانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف توانائی کا ضیاع رکتا ہے بلکہ ڈیٹا سینٹرز کو سستی اور قابل تجدید بجلی بھی بلا تعطل فراہم کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طریقہ کار سے گرڈ پر پڑنے والا دباؤ بھی کافی حد تک کم ہو جائے گا۔ روایتی ڈیٹا سینٹرز کے قیام میں نہ صرف اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے بلکہ ان کی تعمیر میں سالوں کا عرصہ بھی لگ جاتا ہے، اس کے علاوہ ان کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کروڑوں گیلن پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، یہ نئے شمسی توانائی سے منسلک ڈیٹا سینٹرز پانی کے استعمال کو کم سے کم رکھتے ہیں اور ماحولیاتی لحاظ سے بھی انتہائی پائیدار ہیں۔ اسٹارٹ اپ کے بانیوں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو زیادہ منافع بخش بنانا ہے تاکہ سرمایہ کار سولر پینلز کی تنصیب میں مزید دلچسپی لیں کیونکہ اب ان کی توانائی کا ایک ایک واٹ کارآمد ثابت ہو گا۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس منصوبے کو انتہائی حیرت انگیز اور امید افزا قرار دیا جا رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں اس ٹیکنالوجی کے تجارتی استعمال کے بعد دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے روایتی طریقوں میں بنیادی تبدیلیاں آنے کا امکان ہے۔ اگر یہ ماڈل کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو توانائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، جہاں صاف ستھری توانائی براہ راست جدید ترین ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی پشت پناہی کرے گی۔