Politics
جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ، پیٹرولیم لیوی کیخلاف احتجاج
جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس دوران حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں جن میں ممکنہ پیشرفت کا اشارہ ملا ہے۔
جماعت اسلامی نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری لیوی اور مہنگائی کے طوفان کے خلاف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف ایک بڑے احتجاجی مارچ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس احتجاجی مارچ کے پیش نظر جڑواں شہروں کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے کیونکہ اس وقت مختلف جماعتوں کے چار طویل مارچ متوقع ہیں جن سے سیکیورٹی اور ٹریفک کے انتظامات کے حوالے سے انتظامیہ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ دوسری جانب حکومت اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے درمیان رابطے بھی جاری ہیں تاکہ اس صورتحال کا کوئی پرامن اور سیاسی حل نکالا جا سکے۔ جماعت اسلامی کے ایک وفد نے پیٹرولیم ڈویژن میں وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سے ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات کے دوران دونوں فریقین کے مابین موجودہ معاشی صورتحال اور مطالبات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جس کے بعد مذاکرات میں کسی ممکنہ پیشرفت کے اشارے بھی ملے ہیں اور حکومت کی جانب سے ایک ریلیف پیکیج کی پیشکش پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی مارچز کے درمیان کوئی براہ راست آپریشنل تعلق نہیں ہے تاہم انتظامیہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت کا کہنا ہے کہ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور پیٹرولیم لیوی میں مزید اضافہ عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے، لہٰذا جب تک حکومت عوام کو ریلیف فراہم نہیں کرتی تب تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔