World
یمن تنازع: حوثی باغیوں کی پاکستان اور ترکیہ کو سنگین نتائج کی دھمکی
ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے یمن کے تنازع میں سعودی عرب کی حمایت کرنے پر پاکستان اور ترکیہ کو خبردار کیا ہے۔ حوثی قیادت نے دھمکی دی ہے کہ کسی بھی قسم کی بیرونی فوجی مداخلت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
یمن میں جاری طویل خانہ جنگی کے تناظر میں خطے کی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے حال ہی میں ایک سخت بیان جاری کیا ہے جس میں پاکستان اور ترکیہ کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب کی عسکری مدد کرنے یا یمن کے تنازع میں براہ راست مداخلت کرنے سے گریز کریں۔ حوثی قیادت کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا کوئی بھی قدم خطے کے امن کو مزید تباہ کرے گا اور اس کے خلاف فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا۔
یہ وارننگ اس وقت سامنے آئی ہے جب ترکیہ کی طرف سے یہ بیانات دیے گئے ہیں کہ وہ سعودی عرب کی دفاعی اور عسکری ضروریات کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب، خطے میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشمکش پرانے عرصے سے چلی آ رہی ہے، اور یمن کا بحران اس وقت بین الاقوامی سفارت کاری کا ایک انتہائی پیچیدہ نکتہ بنا ہوا ہے۔ مبصرین کے مطابق، ترکیہ کا دفاعی تعاون اور پاکستان کے ممکنہ سفارتی یا عسکری کردار پر حوثی تحریک کی طرف سے یہ سخت ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ تنازع کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے۔
حوثی باغیوں کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ یمن کے اندرونی معاملات میں کسی بھی بیرونی ملک کی مداخلت کو جارحیت تصور کیا جائے گا۔ اس تمام صورتحال میں عالمی اور علاقائی طاقتیں انتہائی احتیاط سے کام لے رہی ہیں تاکہ یمن میں جنگ بندی کی کوششوں کو سبوتاژ ہونے سے بچایا جا سکے۔ ابھی تک پاکستان یا ترکیہ کی جانب سے حوثی انتباہ پر کوئی باضابطہ حکومتی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سفارتی حلقوں میں اس بیان کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔