World
روسی انتخابات اور کریملن کی آئندہ حکمت عملی
روسی صدارتی انتخابات کے نتائج میں کوئی بڑا حیرت انگیز نتیجہ سامنے نہیں آیا تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ کریملن ان نتائج سے کیا حکمت عملی بناتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن اس کامیابی کو یوکرین میں جاری فوجی کارروائی کی عوامی حمایت ثابت کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔
روسی صدارتی انتخابات میں اگرچہ روایتی طور پر کوئی بڑی حیرت یا ڈرامائی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی، لیکن اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ ماسکو میں بیٹھی حکومت ان انتخابی نتائج کو اپنے سیاسی اور عسکری مقاصد کے لیے کس انداز میں استعمال کرے گی۔ بی بی سی کے تجزیہ کار کے مطابق، ان نتائج کے بعد صدر ولادیمیر پیوٹن کی پوزیشن مزید مستحکم ہو گئی ہے اور وہ اسے اپنی پالیسیوں پر عوامی اعتماد کی مہر کے طور پر پیش کریں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن اس انتخابی کامیابی کو خاص طور پر یوکرین میں جاری روسی عسکری کارروائیوں کے پس منظر میں استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔ کریملن یہ مؤقف اختیار کرے گا کہ روسی عوام کی بڑی اکثریت حکومت کی خارجہ اور عسکری پالیسیوں کے ساتھ کھڑی ہے، جس سے جنگ کے حوالے سے ملکی سطح پر دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
اس صورتحال میں بین الاقوامی برادری کی نظریں بھی اس بات پر مرکوز ہیں کہ روس اپنے اندرونی سیاسی ڈھانچے اور معیشت کو کس سمت لے کر جاتا ہے۔ انتخابات کے بعد کے اس دور میں جہاں ایک طرف ملکی سطح پر حکومت کو مکمل تسلط حاصل ہو چکا ہے، وہیں دوسری طرف عالمی سطح پر تعلقات کے تناؤ میں کمی یا اضافے کا دارومدار بھی ماسکو کے آئندہ فیصلوں پر ہوگا۔
مجموعی طور پر، اگرچہ یہ انتخابی عمل توقع کے عین مطابق رہا اور اس میں کسی بڑے سیاسی بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑا، لیکن نتائج کے بعد کی حکمت عملی آنے والے مہینوں میں نہ صرف روس بلکہ خطے کی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو گا کہ کریملن اپنی اس سیاسی فتح کو کس طرح سفارتی اور عسکری کامیابی میں تبدیل کرتا ہے۔