LIVE
Loading Breaking News...

ایتھوپیا میں حکومت مخالف مسلح گروہوں کا اتحاد، خانہ جنگی کا خدشہ

News Image
ایتھوپیا میں حکومت کے خلاف برسرپہ پیکار مختلف مسلح گروہوں نے اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک نئے اتحاد کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پیش رفت سے ملک میں ایک بار پھر خانہ جنگی کے دائرہ کار میں توسیع کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایتھوپیا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں سرگرم مسلح گروہوں نے حکومت کے خلاف ایک نئے اتحاد کی بنیاد رکھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام گروہ ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف برسرپہ پیکار رہے ہیں اور ان کے مابین شدید سیاسی اور عسکری اختلافات پائے جاتے تھے۔ تاہم اب بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ اور حکومتی پالیسیوں کے پیش نظر انہوں نے اپنے تمام پرانے تنازعات کو عارضی طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مرکز کے خلاف ایک مؤثر محاذ قائم کیا جا سکے۔ اس نئے اتحاد کے اعلان کے بعد علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ مسلح گروہ زمین پر مؤثر انداز میں تعاون کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایتھوپیا میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے۔ ملک کے پہلے ہی سے دباؤ کا شکار انفراسٹرکچر اور اقتصادی نظام پر اس نئی کشیدگی کے منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی عام شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب ایتھوپیا کی مرکزی حکومت نے اس صورتحال پر تاحال کوئی حتمی ردعمل جاری نہیں کیا تاہم سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ حکومت اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ ملک کے مختلف خطوں میں بیک وقت بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہیں۔ ماضی میں بھی ایتھوپیا نسلی اور علاقائی تنازعات کا شکار رہا ہے اور ملک کے کئی حصوں میں ہونے والی خونریز جھڑپوں نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا تھا۔ اب جب کہ سابقہ حریف گروہوں نے ہاتھ ملا لیا ہے، آئندہ کے دنوں میں ایتھوپیا کی سیاست اور سکیورٹی کی صورتحال انتہائی نازک موڑ پر داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ عالمی برادری بالخصوص افریقی یونین نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک اور بڑی انسانی اور عسکری تباہی سے بچایا جا سکے۔