Technology
آسٹریلوی وزیراعظم کا امریکہ اور چین کو اے آئی کے خطرات پر مل کر کام کرنے کا مشورہ
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ضابطہ کار اور گورننس کو بہتر بنانے کے لیے عالمی شراکت داری انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے دنیا کی دو بڑی اقتصادی طاقتوں، امریکہ اور چین، کے درمیان باہمی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈ डाली کہ موجودہ دور میں تکنیکی چیلنجز سے اکیلے نہیں نمٹا جا سکتا۔
انتھونی البانیز کے اس مطالبے کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو محفوظ بنانا اور اس کے ممکنہ منفی اثرات کو روکنا ہے۔ اے آئی ٹیکنالوجی جہاں ایک طرف بے پناہ معاشی اور سائنسی فوائد کی حامل ہے، وہیں اس کے غلط استعمال، سکیورٹی خدشات اور اخلاقی مسائل کے حوالے سے بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلوی قیادت چاہتی ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر اس مشترکہ خطرے سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل تیار کریں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کی عالمی گورننس اور ضابطہ کار کے بغیر اے آئی کے میدان میں من مانی کا رجحان بڑھ سکتا ہے، جو پوری دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ آسٹریلوی وزیراعظم کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر اے آئی کے نفاذ اور اس کی نگرانی کے لیے قوانین بنانے پر گرما گرم بحث جاری ہے اور دنیا بھر کے ممالک اس ٹیکنالوجی کو کنٹرول کرنے کے لیے مشترکہ ضابطوں کی تلاش میں ہیں۔