Technology
ڈزنی کا نیا اے آئی قدم: سابق سی ای او بطور چیف ٹیکنالوجی افسر تعینات
والٹ ڈزنی نے کردار ڈاٹ اے آئی کے سابق سربراہ کرن دیپ آنند کو اپنا نیا چیف ٹیکنالوجی افسر مقرر کر دیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر ماضی میں ڈزنی اسی انڈسٹری پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سخت تنقید کرتا رہا ہے۔
عالمی شہرت یافتہ تفریحی ادارے والٹ ڈزنی نے ایک حیرت انگیز فیصلے میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سے وابستہ ایک معروف کمپنی کے سابق چیف ایگزیکٹو کو اپنے ادارے میں اہم ترین منصب پر فائز کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کردار ڈاٹ اے آئی کے سابق سربراہ کرن دیپ آنند کو اب ڈزنی کا نیا چیف ٹیکنالوجی افسر مقرر کیا گیا ہے، جس سے کاروباری حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈزنی اور مجموعی طور پر تفریحی صنعت مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے رجحان اور کاپی رائٹ کے مسائل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ماضی میں ڈزنی اور دیگر تخلیقی اداروں کی طرف سے یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ اے آئی کمپنیاں بغیر اجازت تخلیقی مواد اور دانشورانہ املاک کو اپنے سسٹمز کی تربیت کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جو کہ کاپی رائٹ قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس تناظر میں ایک اے آئی کمپنی کے سابق سربراہ کو اتنے بڑے عہدے پر لانا ڈزنی کی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تقرری سے ڈزنی کو مستقبل میں اپنی ڈیجیٹل اور تکنیکی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، خاص طور پر جب مصنوعی ذہانت کا شعبہ فلم سازی اور اینیمیشن میں تیزی سے اثر انداز ہو رہا ہے۔ کرن دیپ آنند اپنے ساتھ ٹیکنالوجی کی دنیا کا وسیع تجربہ لے کر آ رہے ہیں، جسے اب ڈزنی کے روایتی تفریحی ماڈل کے ساتھ ضم کیا جائے گا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا ڈزنی اپنی نئی تکنیکی قیادت کے ساتھ اے آئی کے قانونی اور کاپی رائٹ کے مسائل کو کیسے حل کرتا ہے، اور کیا یہ اقدام انڈسٹری کے دیگر اداروں کے لیے بھی کوئی نئی راہ دکھائے گا۔